Home

خلافت کون چاہتا ہے؟

Contents

Read More

اردو | Englishالعربية | Bahasa Indonesia

 

نوٹ: اس مضمون کا پہلا مسودہ یقین انسٹیٹیوٹ [Yaqeen Institute] کی طرف سے شائع کیا گیا تھا۔

پہلے مسودے کو پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

 

عرض مولف

اس مضمون کی اشاعت داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت سے قبل متوقع تھِی جو بوجوہ ممکن نا ہو سکی مگر اس کی ہلاکت کی خبر ملنے کے بعد یہ ضرورت مزید بڑھ گئی ہے کہ اسلام کے تصور خلافت کی صحیح تصویر کشی کی جائے جو بالعموم دنیا اور بالخصوص مغرببی ممالک میں داعش کی ظلم و بربریت کی وجہ سے مسخ ہو چکی ہے۔

 

اظہارتشکر

میں ان تمام اہل علم احباب کا مشکور ہوں جنہوں نے اس مضمون کے ابتدائی مسودے کو بڑی توجہ سے پڑھا اور مفید تجاویز پیش کیں ۔ ان احباب میں زارا خان، جوناتھن براؤن، عمر انچاسی، محمد السید بشریٰ، کارل شریف التوبگوئی، اور مبین وید شامل ہیں۔ ان سب رفقاء نے غلطیوں کی نشاندہی کی، اپنی تجاویز سے نوازا اور متعدد مفید مقالاجات اور کتب کے حوالاجات مہیا کیے۔ زیر نظر مضمون میں جو کوتاہیاں رہ گئی ہیں انکی تمام تر ذمہ دارے مجھ پر عائد ہوتی ہے۔ میں یقین انسٹیٹیوٹ کے ذمہ داران کا بھی تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اس مشکل مگر بر محل موضوع پر لکھنے کی ترغیب دی اور شمالی امریکہ سے لے کر قریبا دنیا کے ہر مسلمان ملک میں مقیم اپنے طلباء کا بھی احسان مند ہوں جن کو میں نے یہ مواد مختلف فارمیٹس میں پڑھایا، اور جن کے اشتیاق اور بصیرانہ سوالات نے اس کام کو روح بخشی۔

 

خلافت کون چاہتا ہے؟

خلافت، ایک ایسا منفرد لفظ جو ایک طرف تو بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں تابناک ماضی کے نقوش واضح کرتا ہے وہیں دوسری طرف بہت سے لوگوں کو اس سے جڑے اندیشوں کے سبسب خوف و سراسیمگی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کچھ عارضی تعطل کے علاوہ عموما مسلمان دنیا کی ۱۴۰۰ سالہ تاریخ خلافت سے ہی عبارت رہی ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ کی شکست کے بعد جہاں پورا عالم اسلام ایک صدمے کی کیفیت سے دوچار تھا وہیں اس سانحے نے خلافت کی احیاء کی بہت سے تحریکوں کی بنیاد رکھی۔ بدقسمتی سے سرد جنگ کے بعد کے معروضی حالات نے بیشتر تحریکوں کا رخ نوآبادیاتی ریاستوں کی تعمیر جیسے قلیل المدتی منصوبوں کی طرف موڑ دیا۔ آج جب ان نو آبادیاتی ریاستوں کی ناکامی ایک واضح حقیقت ہے، نیو لبرل معاشیات اور عالمی ماحولیات کے زوال کے متاثرین بڑھتے جا رہے ہیں اور عالمی نظام ڈیگلوبلائزیشن اور قومیت پرستی کی طرف قدم بڑھا رہا ہے، خلافت کا تصور ہی وہ واحد تہذیبی متبادل ہے جو کمزوروں کو طاقتور کر کے مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت کر سکتا ہے۔ اگرچہ علمی حلقوں کی اس موضوع کی طرف توجہ نسبتا نئی ہے مگرہر ناکام بغاوت، مسلمان دنیا پر مسلط فوج کشیاں، دہشت گردی کا افریط اور امریکہ و یورپ کی یلغار کی کوکھ سے اسلامزم کی فکر ایک بار پھر جنم لے رہی ہے۔

اس ضمن میں دنیا نے ماضی قریب میں اس فکر کا جو حقیقی عکس دیکھا وہ خلافت کی ایک بری مثال تھی۔ عراق اور شام میں نام نہاد داعش (جسے ISIS اور ISIL بھی کہا جاتا ہے) کے موسمی عروج اور ذلت آمیز زوال نے اپنی تمام ہولناکیوں کے باوجود خلافت کو ایک بار پھر موضوع سخن بنا دیا ہے۔ اسی لیے مسلمان دنیا کے بہت سے عوامی لیڈروں نے ایک بار پھر اس فکر کو اپنی تقریروں کا مرکز بنا لیا ہے۔ ترک صدر اردووان نے تو اس رجحان کو خلافت عثمانیہ کے ایک بار پھر عروج کی خواہش سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے تو موجودہ جمہوریہ ترکی کو سلطنت عثمانیہ کا تسلسل قرار دیا ہے۔ اسی لیے ان کے مداحوں کی طرف سے دیا جانے والا لقب، “سلطان اردووان،” دراصل بہت سے مسلمانوں کے ذہنوں کے اس خلا کو پُر کرتا ہے جسے دنیا بھر کے مسلمان بڑی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔

ماضی قریب تک، خلافت کے احیاء کے متمنی لوگوں کو ایسے جنونی، رومانویت پسند، یا سخت روایت پسند افراد قرار دیا جاتا تھا جو ایسے روشن ماضی کو ایک بار پھر دوہرانا چاہتے تھے جو بعض ناقدین کے نزدیک صرف ایک فسانہ تھا۔ اسلام پسندوں نے قومی ریاست کے تصور کو طوعا و کرہا تو قبول کیا ہے تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ یورپ کی سیکولر عیسائی جمہوری سیاست کے متوازی نقطہ نظر کو بھی کسے حیثیت میں قبول کر چکے تھے۔ اسی لیے ان میں یورپی یونین کی طرز پر مسلم، یا کم از کم عرب ممالک کے اتحاد کا تصور عملا ممکن نہ بھی ہو تو ایک کنفیڈریشن کے طور پر تو واقعی مطلوب رہا ہے۔ ایسے عملیت پسند [pragmatic] افراد، ہر طرح کے سمجھوتے کرنے کے باوجود، اپنے سیاسی اہداف کو حاصل کرنے یا بڑے پیمانے پر ظلم و ستم سے بچنے میں بڑی حد تک ناکام رہے ہیں۔ ۲۰۱۱ کی عرب بغاوتیں اور اس کے بعد کے حالات جنہوں نے نوجوانوں کو ان نظریات سے نسبتا دور کر دیا ہے اسی حقیقت کے عکاس ہیں۔ جیسے جیسے مسلم عوام کی بے بسی اور مسلم اشرافیہ کی دھوکہ دہی طشت از بام ہو رہی ہے، مسلمانوں کی عالمی وحدت — ًتصور امت اور ان ہی مسلمانوں خصوصا ان کے پسماندہ طبقوں کی داد رسی کرنے والی حکومت یعنی خلافت جیسے تصورات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں اور سب و شتم کا شکار ان مسلمانوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ایسے تصورات کو مقبولیت عام فراہم کر رہا ہے۔

نیویارک ٹائمز کا ایک حالیہ مضمون دنیا بھر کے مسلمانوں اور خصوصا مسلمانوں کے ان طبقوں جو داعش جیسی تنظیموں کی مذمت کر چکے ہیں میں فکر خلافت کی مقبولیت میں اضافے پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس مضمون کے مصنف کے مطابق مغرب کے بہت سے لوگوں کی خواہش کے برعکس یہ فکر [خلافت] مسلمانوں میں ایک مقبول تصور ہے۔  نتیجتا مشرق وسطیٰ کے غاصبوں کی گھٹیا اور خود غرض سیاست اور فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے مسلمانوں میں ایک مشترکہ عالمی اور سیاسی تشخص کی خواہش قبولیت عام پا رہی ہے اور نوجوان مسلمانوں کے مشترکہ وطن کو موجودہ مشکلات سے نجات کا واحد حل تصور کر رہے ہیں۔

خلافت کے احیاء پر عموما تین قسم کے اعتراضات کیے جاتے ہیں: یہ ناپسندیدہ، ناقابل عمل، اور/یا مذہبی طور پر غیر ضروری ہے۔ یہ ناپسندیدہ ہے کیونکہ یہ قرون وسطیٰ سے آیا ایک مطلق العنان سیاسی نظام ہے (اگر اسے نظام کہا جائے)؛ یہ انسانی حقوق، ترقی، شہریت، جمہوریت اور مذہبی آزادی سے پہلے کے قدیم دور کییاد تازہ کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں سے منسلک ہے اور اپنے سخت حامیوں اور بدترین مخالفین کی کثیر تعداد رکھتا ہے۔ یہ ناقابل عمل ہے کیونکہ قومی ریاست، اپنی خامیوں کے باوجود ایک حقیقت ہے۔ اور اخیر یہ کہ ، یہ مذہبی طور پر غیر ضروری ہے کیونکہ خلافت ایک اسلامی مذہبی نظام نہیں بلکہ صرف ایک تاریخی نظام تھا جو مسلمانوں کے مشترکہ مثالی نظام کے طور پر بہت قلیل عرصہ قائم رہا۔ اس مضمون میں، میں انہی تین اعتراضات کا جائزہ لوں گا۔

خلافت کے خلاف اٹھائے جانے والے بعض اعتراضات نے اس کی اہمیت کے بارے میں ابہامات سے جنم لیا ہے۔ ایک طرف یہ معترضین کے نزدیک قرون وسطی سے مستعار ایک مطلق العنان تھیوکریسی کی طرف بلاتی ہے اور دوسرے طرف یہ اپنے اصلاح پسند حامیوں کے نزدیک یورپی یونین کے طرز پر مسلم حکومتوں کی ایک کنفیڈریشن (نسبتا بہتر انجام کے ساتھ!) ہے۔ بعض کے نزدیک یہ عصری سیاسی نظاموں کا ایک جدید متبادل ہے تو دوسروں کے لیے، مسلم اکثریتی جمہوری قومی ریاستوں کا مابعد کا اتحاد ہے۔ یہ دونوں قسم کی انتہائیں خلافت کی تمام جہتوں کا احاطہ نہیں کرتیں اسلیے ان سب کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔

اگر اسے ایک منصفانہ، جوابدہ، انسانی حقوق کا احترام کرنے والی، اور ایک متحد معیشت اور دفاع کے ساتھ مختلف مسلم علاقائی حکومتوں کے وکندریقرت اتحاد پر مبنی طرز حکمرانی کے طور پر سمجھا جائے تو میرا دعویٰ ہے کہ خلافت ہی مسلمان معاشروں کو تنزلی سے بچانے ریاستوں کو دہشت گردے سے محفوظ رکھنے اور دنیا کو تیسرے عالمی جنگ سے بچانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

یہ خیال کہ خلافت — یا مثالی خلافت — صرف اس لیے ناقابل عمل ہے کہ اس کا اب کوئی وجود نہیں رہا خود سطحی فکر اور تحقیق کا نتیجہ ہے۔ آخر کار جمہوریت کا آغاز بھی تو یونان کی ایک چھوٹی سی شہری حکومت سے محدود انداز میں ہوا تھا جو کئی سو سال تک غالب نظام رہا اور پھر قریبا دو ہزار سال کیلئے مفقود ہو گیا۔ ۴ یہاں تک کہ اس کے عروج ثانی میں بھی پہلے یہ ایک ناپسندیدہ نظام کے طور پر ابھرا۔ یعنی امریکہ کے بانیوں اور اشرافیہ نے “ریپبلکن ڈیموکریسی” کے خیال کو ایک آکسیمورون [oxymoron] کے طور پر لیا لیکن بالآخر انہیں عوامی دباؤ کے سامنے سر جھکانا پڑا۔ اسلیے کسی خیال کو ناقابل عمل تصور کرنے کے لیے یہ وجہ کافی نہیں کہ وہ  بذات خود موجود نہیں۔

خلافت اپنی محدود مفہوم میں بھی مسلم وحدت کی سیاسی تصویر ہے اسلیے یہ کوئی ایسا تصور نہیں جسے مسلمانوں کو دوبارہ ایجاد کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ یہ تصور سماجی وجود کے ہر قرآنی سبق، ہر پیغمبرانہ تعلیم اور ہر جمعہ کے خطبہ میں ہمیشہ موجود رہا ہے۔ اپنی پوری تاریخ میں مسلمانوں نے اس خیال کو سیاسی طور پر عملی شکل دینے کی ضرورت پر ہمیشہ اتفاق کیا ہے اور اس طرح یہ نہ صرف اسلامی قانون سے قدیم تصور ہے بلکہ اسکی بنیاد بھی ہے۔ درحقیقت، خلافت کی عملی تاریخ میں ہمیشہ تمام مسلم خطوں کے شامل نہ ہونے کی وجہ سے عالمی اسلامی اتحاد کا تصور شاذ و نادر ہی مرکز بحث رہا ہے۔ اس لحاظ سے، مثالی خلافت کامل جمہوریت یا خود مختار قومی ریاست کے سے کچھ خاص مختلف نہیں ہے۔ ایسی اجتماعی خواہشات اپنی مثالی شکل میں شاذ و نادر ہی پوری ہوتی ہیں، پھر بھی وہ ہر دور میں انسانوں کی اکثریت کے ذاتی اور اجتماعی اخلاقی عمل کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ میں ایسے آئیڈیل کو asymptotic آئیڈیل کہتا ہوں۔ ایک asymptote (کیلکولس کے طلبہ کو شاید یاد ہو) ایک ایسی لائن ہے جو ایک گھماؤ [curve] کے قریب پہنچتی ہے لیکن کسی محدود فاصلے پر اس سے ملتی نہیں ہے۔

ایک asymptotic آئیڈیل یوٹوپیائی آئیڈیل جیسا نہیں ہوتا: یہ حقیقی، عقلی، اور بعض قابل حصول بھی ہوتا ہے، لیکن اس کا کمال یہی ہے کہ اسکے حصول کی طرف ہمیشہ سفر جاری رہتا ہے۔ سیاسی نظریہ نگار شیلڈن وولن جب جمہوریت کو بیان کرنے کے لیے “episodic” اور “fugitive” جیسی اصطلاحات کا استعمال کرتی یے تو اسی طرز کے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرح اسلام کے مذہبی نظریات سمیت زندگی گزارنے کے تمام بامعنی انسانی نظریات اپنی ہیت میں asymptotic ہی ہیں۔ گناہ سے بچنا، ہمیشہ خدا کو ہر چیز پر ترجیح دینا، اور سچا، انصاف پسند، اور دلیر ہونا یہ سب انہی آئیڈیلز کا حصہ ہیں۔ میرا دعویٰ ہے کہ کسی شخص کے asymptotic آئیڈیل اس کے ایمان کی صحیح ترین نشانی ہیں۔ جمہوریت، لبرل ازم، سرمایہ داری یا سوشلزم کے سچے ماننے والے وہ ہیں جو ان نظاموں کی ناکامیوں کے باوجود ان پر قائم ہیں۔ مسلمانوں کا سیاسی اتحاد اور پیغمبرانہ طرز حکمرانی کا تسلسل بھی ایک ایسا ہی آئیڈیل ہے جو پوری تاریخ میں مسلم تشخص کا حصہ رہا ہے اور اسلام کے بنیادی تقاضوں میں سے ایک ہے۔

خلافت اپنے بہترین دنوں میں بھی یوٹوپیا نہیں تھی۔ لہٰذا، ہم خلافت کے اس رومانوی تصور کے خلاف ہیں کہ محض اسکا اعلان ہی جادوئی طور پر مسلمانوں کی آزادی اور فلاح کی ضمانت دے دے گا۔ نہ ہی ہم یہ سمجھتے ہیں کی خلافت اپنی تیرہ سو سالہ تاریخ میں کبھی مسائل کا شکار نہیں ہوئی۔  تاہم بعض ناقدین چودہ صدیوں کی تاریخی خلافت کو ایسے اصولوں پر قیاس کرتے ہیں جس کی بنیاد پر حقیقتا کوئی ادارہ یا اصول خود قائم نہیں رہ سکتا۔ اسلام میں جھوٹ، سود، بے گناہوں کے قتل وغیرہ کی واضح ممانعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اصول ہمیشہ عملی طور پر برقرار رہے ہیں۔ اس طرح کے جانبدارانہ شکوک وشبہات مسلمانوں کے خلاف خارجیوں کی درندگی کی یاد دلاتے ہیں۔ انہوں نے بھی پہلے خود ہی ایک جھوٹا اصول قائم کر لیا تھا کہ صرف قرآن ماخذ ہے اور جس ہستی پر یہ نازل ہوا تھا اسکی اہمیت کا سرے سے ہی انکار کر دیا تھا اور پھر اسی خود ساختہ اصول کہ تحت لوگوں کی مذمت شروع کر دی تھی۔ خوارج خصوصا خلفاء حتیٰ کہ ان کے اپنے فرقے کے بڑوں کی بھِی ناقص طرز حکمرانی کے سخت ناقد تھے۔ اگر اس بنیاد پر کہ خلافت کے تمام ادروار میں ہمیشہ تمام مسلمان ریاستیں واحد جغرافیہ نہیں رہیں سرے سے خلافت کے وجود کا ہی انکار کر دیا جائے تو یہ اسی کہ مصداق ہے کہ تاریخ میں مسلمانوں کے وجود سے صرف اسلیے انکار کر دیا جائے کیونکہ ان سب میں بشری کمزوریاں رہی ہیں یا جمہوریت کا انکار اس بنیاد پر کر دیا جائے کہ جقیقی دنیا میں تمام جمہوریتیں ناقص ہیں۔ یقینا اس طرح کے تمام دلائل انتہائی لایعنی ہیں۔

بلاشبہ، جدید دنیا کے بعض سیکولرحلقے یہ دعوی کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی سیاسی خود مختاری اور اتحاد، جیسا کہ خلافت کے تصور میں مضمر ہے کوئی مطلوبہ اہداف یا مذہبی نظریات نہیں ہیں۔ اس طرح کے دلائل کی طرف سے ہم یہاں بحث کریں گے۔ اب تک صرف یہ نکتہ پیش کیا گیا ہے کہ محض تاریخی خامیوں کی طرف اشارہ کرنا خلافت کی فزیبلٹی کے خلاف کوئی مضبوط دلیل نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ فزیبلٹی کا سوال اسلامی فقہ میں ذمہ داریوں کی تشخیص اورتعین میں ایک اہم عنصر ہے، اسی لیے اس نقطے پر مضمون کی ابتداء میں ہی بحث ضروری ہے۔

اگلا سوال یہ ہے کہ یہ نظام کتنا مطلوب ہے۔  اہل ایمان کو ہر وہ چیز مطلوب ہے جو حکم الہی ما منشاء ہو۔ آخر کار خدائی احکامات ہماری ہی بھلائی کیلئے ہیں چاہے ہم انکی حکمت کا احاطہ نہ کر سکیں:”خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے”۔ ۷ تاہم، خدا کے کسی بھی خاص حکم کو اسلامی فقہ کی روشنی میں ہی سمجھا جانا چاہئے جو عملی ترجیحات، انفرادی اور اجتماعی صلاحیتوں، اور اس کی حیثیت کے بارے میں علمی تصدیق کے لحاظ سے ااحکامات و ممانعتوں اور پسندیدہ اعمال کو (مختلف علماء کی طرف سے مختلف طریقے سے) مرتب کرتا ہے۔اس ضمن میں ایک مفصل بحث تو یہاں ممکن نہیں اسلیے ذیل میں، ہم مختصراً خلافت کے قیام کی حیثیت کو ایک حکم کے طور پر بیان کریں گے۔

حجت الاسلام الغزالی اور اس پائَے کے بعض دیگر علماء خلافت کو اس کی افادیت سے قطع نظر، ایک مذہبی عبادت کی طرح فرض گردانتے ہیں اسی لیے اسے اپنی سیاسی افادیت سے مشروط نہیں کرتے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور امام الحرمین الجوینی جیسے دیگر علماء نے اسکی افادیت پر عقلیت اور منطق کی روشنی میں بھی بحث کی ہے۔ یہ مؤخر الذکر نقطہ نظر، میرے خیال میں، زیادہ جامع ہے۔ اسی لیے اس سیاسی نظام کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے اٹھنے والی کسی بھی تحریک کو مسلمانوں کو درپیش سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کا ایک جامع پلان پیش کرنا چاہیئے۔ موجودہ دور کی قومی ریاستوں کے ماڈل سے نکل کر مسلم دنیا کے عالمی اتحاد کی طرف کوئی بھی سفر طے کرنے کیلئے ان مسائل کے بارے میں ایک نتیجہ خیز اور سنجیدہ مکالمہ ضروری ہے۔ مزید برآں، اس طرح کی کسی بھی کاوش میں نہ صرف تمام مسلمانوں [خصوصا پسماندہ اور حقوق سے محروم] کا شامل ہونا ضروری ہے بلکہ مسلمان ریاستوں کے غیر مسلم شہریوں، علاقائی پڑوسیوں، اور دنیا بھر سے اہل دانش کو بھی اس مکالمے میں شامل کرنا اتنا ہی ضروری ہے۔

مختصرا یہ کہ جہاں اسکی مذہبی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے اسے قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے وہیں اسکی افادیت اور اہمیت [desirability] کو واضح کرنے کیلئے اسکو سیاست اور تاریخ [فقہ الواقعی] کے آئینے میں دیکھنا بھی ضروری ہے۔ درحقیقت، کسی بھی اور مسئلے کی طرح اس موضوع پر بھی دونوں قسم کی گفتگو کو فقہ اور حقیقت دونوں کی روشنی میں آگے بڑھنا چاہیے۔ اگر ان باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیس کو صحیح طریقے سے ترتیب دیا جائے تو، میرا ماننا ہے کہ نا صرف مسلمان بلکہ دنیا کہ بیشتر بالغ النظر لوگ اسکی افادیت کے قائل ہو جائیں گے۔

اس نظام کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ پچھلی چند دہائیوں کے دوران، عالمگیریت [globalization] نے پوری دنیا میں مسلمانوں کے درمیان فاصلوں کو کم کر کے انہیں ایک دوسرے کے حالات سے باخبر کرنے کے ساتھ زمینی حالات کی وجہ سے ایک مشترکہ وژن کے گرد جمع کر دیا ہے۔ دوسری طرف ہر معاشرے میں امیر و غریب کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ 2011 کی عرب بغاوتوں نے بیسیوں عرب ممالک اور انکے عوامی حلقوں کے درمیان مشترکات کو واضح کر دیا ہے اور ان انقلابات کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان تحریکوں کو دبانے کیلئے خلیجی بادشاہتوں اور فوجی آمروں کی صف بندی نے ان ریاستوں میں قومی خودمختاری کے خلا کو مزید واضح کر دیا ہے۔ حکومتوں کی طرف سے قید و بند اور قتل و غرت گری پر رضامند حتی کہ داد دینے والے اہل جبہ و دستار بھی ہر معاشرے میں سامنے آئے ہیں۔ اس سراسر سیاسی ناانصافی اور علماء کے گروہوں کے دیوالیہ پن کے بوجھ تلے مسلم معاشرے باوقار انسانی زندگی مہیا کرنے کے قابل نہیں رہے اور ان نامساعد حالات کے ردعمل سے تشدد [دہشت گردی لیکن اس سے بھی زیادہ اہم جارحیت کا شکار افراد یا گروہ یا گھریلو تشدد] مذہبی بدگمانی یا جنونیت، اور عمومی اخلاقی گھٹیا پن جیسی چیزوں نے جنم لیا ہے۔

عالمی سطح پر، قومی ریاست کا ماڈل عالمی طاقتوں کی طرف سے 1980 کی دہائی کی نو لبرل پالیسیوں کے نفاذ کے بعد سے مقبول ہوتا گیا ہے۔ یہ اضطراب 1990 کی دہائی سے شائع ہونے والے مقبول مضامین اور انکے عننوانات سے واضح ہوتا ہے، مثلا “قومی ریاست کا زوال” (متعدد مونوگراف جن پر ذیل میں بحث کی گئی ہے کا عنوان یہ ہے)، “تہذیبوں کا تصادم،”۹ “جہاد بمقابلہ میک ورلڈ۔ : عالمگیریت اور قبائلیت دنیا کو کس طرح نئی شکل دے رہے ہیں”، ۱۰ اور “اینڈ گیمز: جدید سیاسی فکر سے سوالات”۔۱۱ یہ لٹریچر روایتی قومی ریاست کی تحلیل اور عالمی سرمایہ داروں کے بجائے طبقاتی تقسیم اور دولت و ثروت کو جمع کرنے کی بنیاد پر علاقائی طاقتوں اور انکے باہم اتحاد کا نظریہ پیش کرتا ہے۔ ان قوتوں نے مل کر قومی ریاست کے آلات کو دوبارہ تیار کیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے بہترین دنوں میں (انیسویں صدی سے دوسری جنگ عظیم تک)، قومی ریاست ایک تجریدی بین الاقوامی نظام کے پہلو کے پیچھے مخصوص مفادات کی صف بندی پر مشتمل تھی۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے ایک معروف امریکی اسکالر نے اپنی کتاب Sovereignty: Organized Hypocrisy میں اسی رائَے کا اظہار کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ عملا تو طاقتور ریاستوں نے کمزور ریاستوں کی خودمختاری کو بارہا پامال کیا ہے لیکن خودمختاری کے اسی نعرے نے انہیں کمزور ریاستوں میں اپنے کٹھ پتلی مسلط کرنے کا راستہ بھی فراہم کیا ہے۔ قومی ریاست کے خاتمے کے بارے میں زیادہ تر لٹریچر اس نظام کی ہمارے دور کے سب سے بڑے بحرانوں جیسے کہ  موسمیاتی تبدیلی اور آمدنی میں عدم مساوات سے لے کر مہاجرین کے بڑھتے ہوئے بحران (غیر شہریوں کا اضافہ) سے نمٹنے میں ناکامی کی نشاندہی کرتے ہوئے علاقائی یا عالمی اقتصادی تعاون کو بطور حل تجویز کرتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مسلمانوں نے تاریخی طور پر صنعتی انقلاب سے تو سب سے کم فائدہ اٹھایا ہے لیکن اس کے ناگزیر نتائج یعنی ماحولیاتی تباہی کا پہلا ہدف بنتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ ہم ایک ایسی “ماحولیاتی نسل پرستی” کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں امیر تو اپنے آپ کو بچا لیں گے لیکن نقصان غریبوں کو اٹھانا پڑے گا۔ مسلمان کیلئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ منظر نامہ دنیا میں اپنی انتہائی وحشیانہ شکل میں انکی کمزور ریاستوں اور فوجی آمریتوں میں پیش آنے والا ہے۔ مختصراً یہ کہ مسلمانوں کے لیے قومی ریاست کا نظام پر سفاکانہ، تفرقہ انگیز اور وحشیانہ رہا ہے اور رہے گا۔ اسکی وجہ صرف یہ نہیں کہ نوآبادکاروں نے ان ریاستوں سے رخصت ہونے سے پہلے ہی ان کو تقسیم کرنے اور ان کے وسائل کو کنٹرول کرنے کا پلان ترتیب دے لیا تھا بلکہ اسکی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ماڈل اپنی ساخت میں اسلام سے مطابقت نہیں رکھتا۔

 

خواب، ماضی اور مستقبل

انسان اپنے اندر ماضی کی یادیں اور مستقبل کے لیے خواہشات سمیٹے رکھتا ہے۔ اپنی حالت کو حال سے بہتر بنانے کے خواب اور اپنے پیاروں کی آسودگی کی خواہش اور امید سے عاری زندگی دراصل ایک ڈراونا خواب ہے۔ ایسی ڈسٹوپین [dystopian] ناامیدی اکثر بڑی برائی کو جنم دیتی ہے۔ عظیم سامراجیوں نے بھی خوابوں کیاہمیت کو تسلیم کیا ہے اسی لیے چرچل نے ایک بار کہا تھا کہ اگر کوئی پچیس سال کی عمر میں مارکسسٹ نہ ہو تو اس کے پاس دل نہیں لیکن اگر کوئی پینتیس سال کی عمر میں بھی مارکسسٹ نہیں تو اس کے پاس دماغ نہیں۔ مارکسزم ایک مکمل عقیدہ رکھنے والا جدید دور کا سیکولر مذہب رہا ہے۔ گلوبل نارتھ کے سیکولر نوجوانوں کے لیے، مارکسزم یا ترقی پسندانہ وژن کی کوئی اور شکل اس خلا کو پُر کرتی ہے جو مذہبی انتشار سے پیدا ہوا ہے اور اس باہم ہمدردی کی ضمانت دیتی یے جو سرمایہ دارانا نظام میں مفقود ہے۔ ایک عالمی برادری ہونے کے ناطے مسلمانوں کے بھی کچھ مشترکہ خواب اور امیدیں ہونی چاہئیں۔ سرکاری مذہب پر اورویلین[Orwellian] کنٹرول اور غاصب حکمرانوں کی طرف سے آزاد فکر ہر پابندی لگا کر اسلام کی متبادل تشریحات کو مکمل دبانے کی وجہ سے مسلمان دنیا میں داعش جیسی تباہیوں نے جنم لیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ اور عالمی طاقتوں کی اسلام کے خلاف مہم جوئی نے بھی ان اندرونی آمروں کہ ہاتھ مزید مضبوط کیے ہیں۔ اس صورتحال نے مسلمانوں کی پوری نسل کو دو انتہاوں میں تقسیم کر دیا ہے جس میں ایک گروہ اپنے مسلمان ہونے پر معذرت خواہانہ رویے کا شکار ہے تو دوسرا گروہ انہی حالات پر نہایت خشم آلود اور غم وغصے سے بھرا ہوا ہے۔

مستقبل کیلئے اسلام کی وہ قسم قابل عمل ہے جس سے دنیا کو نہ بچنا پڑے بلکہ وہ خود دنیا کی حفاظت کی ضامن ہو۔ اسی نقطہ نظر کو پروفیسر سلمان سید نے اپنی معرکتہ الآراء تصنیف Recalling the Caliphate میں اس طرح سے بیان کیا ہے:

“خلافت کی طرف دعوت کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو اجتماعی طور پر درپیش چیلنجز نہ تو مذہبی ہیں اور نہ ہی ثقافتی بلکہ سیاسی ہیں اور ان کا حل بھی اسلامی سیاست میں ہی پایا جاتا ہے۔ اس سیاست میں بھی بس وہی تاریخی جدوجہد موجود ہے جس کا آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی [معراج سے]  سے شروع ہوتا ہے ۔۔۔  اسلیے خلافت کے احیاء کی دعوت یہی یاد دہانی ہے کہ اسلام اسلام ہے، اور مسلمانوں کے لیے بس اتنا ہی ضروری ہے۔”

اس دعوت میں بہت تاخیر ہو چکی اور قریبا پچھلی ایک صدی اسلام کو بطور اسلام رہنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

سرد جنگ کے بعد دنیا میں مغربی نظام کا غلبہ ہو گیا۔ ہنٹنگٹن [“دوسرے مختلف ہیں، ہمیں سب سے لڑنا ہے”] جیسے قدامت پسندوں سے لے کر فوکویاما [“ہم تاریخ کی انتہا ہیں، ہمیں سب کو ضم کردیناا چاہیے”] جیسے لبرلوں نے اس کے ساتھ ہی نئے محاذوں اور نئے دشمنوں کی ضرورت کو تسلیم کیا۔ لبرلزم کو(اپنی اقتصادی شکل سرمایہ داری کے طرح) ہمیشہ سلطنت کے پھیلاو اور اسکے لیے جنگ و جدل کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس ضمن میں اسکی کامیابی نے دنیا پر نہایت منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اسی وجہ سے لبرلز خود کبھی کبھی یہ سوال کرتے پائے جاتے ہیں کہ کیا کوئی متبال طرز معاشرت بھی ممکن ہے یا نہیں۔ انتھروپالوجسٹ کلفرڈ جیئرٹس اسی مخمصے کا شکار ہیں:ایک طرف وہ لبرلزم کی برتریت کے قائل ہیں تو دوسری طرف بطور انتھروپالوجسٹ وہ انسانی عقائد اور ثقافتوں کی اصل اور غیر معمولی مختلفیت سے بھی مکمل آگاہ ہیں۔ ان کے ہم خیال، رچرڈ شویڈر، اس تنازع پربحث کرتے ہوئے ایک دلچسپ سوال اٹھاتے ہیں: کیا موجودہ لبرل کیپیٹلزم دنیا  کی تمام دیگر تہذیبوں کو زیر کرنے کی بعد، ہمارا واحد نیو ورلڈ آرڈر اور امکانی مستقبل ہے؟ انہوں نے بہت ہی جرات مندی سے مستقبل کیلئے تین ممکنات کی طرف اشارہ کیا ہے:

” یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا تاریخ ایک عالمی تمدن کے اپوتھیوسس  [apotheosis] کے ساتھ ختم ہوجائے گی (پیشگوئی #۱)، یا علیحدہ اور خودمختار قومی ریاستوں کے ساتھ نسل پرستی عروج پا لے گی (پیشگوئی #۲)، یا یہ کی انسان جس طرح جدید دور سے پہلے کئی بار کثیر القومی سلطنتوں میں رہ چکے ہیں، سیاسی طور پر لبرل شرائط پر بھی، دوبارہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہو جائیںگے (پیشگوئی #۳) ۔”

وہ تجویز کرتا ہے کہ یہ تیسرا ممکنہ مستقبل ہے، جو حقیقی انسانی خوشحالی اور آزادی کو یقینی بناتا ہے۔ اور میرا دعویٰ ہے کہ صرف یہی ایک چیز ہے جسے مسلمان معقول طور پر قبول کر سکتے ہیں: حقیقی طور پر مختلف تہذیبوں کی دنیا، لیکن وہ جو اپنے مستقل، تجدید مقصد کے طور پر تصادم کو نہیں بلکہ تعاون اور بقائے باہمی کو مقدم رکھیں۔

لبرلزم کی جعلی عالم گیریت ہی اس کا بڑا عیب اور بڑی منافقت ہے۔ جیسا کہ وائل حلاق نے اپنے حالیہ مونوگراف “ریسٹیٹنگ اورینٹلزم: اے کرٹیک آف ماڈرن نالج” میں  استدلال کیا ہے کہ، ایڈورڈ سید جیسے لوگوں نے اس “تصادم” اور جنگ کا انکاراسلام کو ایک تمدنی حقیقت سے خارج کر کے کیا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ موزوں نقطہ نظر یہ ہے کہ تصادم” کی ناگزیریت کو قبول کرنے کی بجائے اسلامی تہذیب کے وجود کو تسلیم کر کے یہ سوال اسی سے کیا جائے۔

 

بہتا خون

ماہر عمرانیات ارجن اپادورائی اپنے ایک مضمون بعنوان “کیا اسلام ہی انکا حدف ہے؟” میں لکھتا ہے کہ “دنیا بھر میں نسل کشی کرنے والی ریاستیں مسلمانوں پر حملہ آور ہیں” اور مزید کہتا ہے: “اسرائیل کا فلسطینیوں کو قید کرنا اور میانمار کا اپنے روہنگیاوں کو بے دخل کرنا، ان [نسلی] اقلیتوں کی حالت زار کی عکاسی کرتا ہے”۔ میں نے سوچا کہ بالآخر یہ بیرونی دنیا کی طرف سے یہ ادراک بھی خوش آئیند ہے ورنہ کئی دہائیوں سے یہ سوال مسلمان ہی خود سے پوچھتے رہے ہیں گو کہ اسکا جواب شاید انکو معلوم ہے۔ یہ مضمون کسی جامع پیغام سے تو عاری ہے لیکن اس میں مشاہدے کی عامیت نے میرے توجہ اپنی جانب مبزول کروائی، ایک ایسا مشاہدہ جو بدلے کی خواہش لیے القائدہ کے کسی رکن نے نہیں بلکہ ایک ہندوستانی امریکی ماہر عمرانیات نے رقم کیا تھا۔ یہ ہے مسلم خون کی ارزانی۔

جیسے جیسے دوسرے ترقی پزیر ملکوں کی طرح مسلم اکثریتی قومی ریاستیں، ناکام ہوتی جا رہی ہیں ویسے ویسے گلوبل نارتھ انکے گرد دیواریں کھڑی کرتا جا رہا ہے۔ جنگ، نوآبادیات، نسل کشی، بدعنوانی، آلودگی، اور فاقہ کشی جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمان—یہاں تک کہ جو اپنی ذاتی زندگی میں صرف برائے نام ہی مذہبی ہیں — ان مشترکہ خطرات سے محفوظ رہنے کیلئے ایک جدید پین اسلامزم کے قائل ہو رہے ہیں۔ آج کی عالمگیر دنیا میں جہاں مغرب کی دہشت گردی کے خلاف جنگ نے ہر جگہ مسلمانوں میں مسلمانیت کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے، اسرائیل، چین، میانمار، ہندوستان اور ان گنت دیگر ریاستیں “مسلمانوں مسئلے” کو کسی جوبدہی سے بے پروا من مرضی سے دبا رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی سیاست دان کا بیان کہ “ہمارا تنازعہ پوری مسلم دنیا کے ساتھ ہے، پوری عرب دنیا کے ساتھ،” یورپ و امریکہ میں موجود اسلام مخالف جزبات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ حالات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی یاد دلاتے ہیں جس کے مطابق ایک وقت ایسا آئے گا جب تمام قومیں مسلمانوں پر دسترخوان پر کھانے کی طرح ٹوٹ پڑیں گی اسسلیے نہیں کہ وہ تعداد میں تھوڑے ہوں گے بلکہ اسلیے کہ وہ ایک تنکے کی مانند بے وقعت ہونگے۔

یہ مسئلہ نہ تو نیا ہے، اور نہ ہے مستقبل قریب میں حل ہونے والا ہے۔ سرد جنگ کے اختتام پر ہی، ماہرین نے اسلام کو مغرب کی کل ثقافتی بالادستی کے لیے ایک چیلنج قرار دے دیا تھا۔ سیموئیل ہنٹنگٹن نے 1993 کے اپنے مشہور مضمون “تہذیبوں کا تصادم” میں لکھتا ہے کہ “اسلام کی سرحدیں خونی ہیں”۔ ہنٹنگٹن اپنی خیالات کو مغرب اور اسلام، دونوں طرف کے مصنفین سے منسوب کرتا ہے۔ وہ اپنے مضامین میں ایک سیکولر ہندوستانی مصنف کی تحریر کا حوالہ یوں دیتا ہے “’مغرب سے لے کر پاکستان تک اسلامی اقوام کی ایک نئے عالمی نظام کیلئے جدوجہد کا آغاز ہو جائے گی”۔ اسی طرح  برنارڈ لیوس کی تحریر کا حوالہ دیتا ہے کہ “ہماری یہودی-مسیحی تاریخ، ہمارے سیکولر حال، اور دونوں کے عالمی پھیلاؤ کے خلاف ایک قدیم حریف کا شاید غیر معقول لیکن یقیناً تاریخی ردعمل ۔۔۔ یہ تہذیبوں کے تصادم سے کم نہیں۔” لیوس اور ہنٹنگٹن کا نقطہ نظر جنگجو، غلط اور غیر منصفانہ تھا، لیکن اس میں حقیقت پسندی کا عنصر موجود تھا جس نے ان ہزاروں علمی دعووں کو غلط ثابت کیا جن کے مطابق ایسا کوئی تسادم موجود نہیں تھا۔ یقینا موجود تھا۔

ہنٹنگٹن لکھتا ہےکہ سرحدیں خونی ہو گئی ہیں لیکن صرف سرحدیں ہی خونی نہیں ہوئیں۔ اب تو جسم کے اندرونی اعضاء بھی جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ناکارہ ہو رہے ہیں اور ان سے خون رس رہا ہے جیسے جیسے جسم خود پر حملہ آور ہو رہا ہے۔ فلسطین ک گلا ایک مذہبی، نوآبادیاتی نسل پرست ریاست کے ذریعے گھونٹا جا رہا ہے۔ ایک اور نسل پرست ریاست روہنگیائی مسلمانوں کو زندہ جلا کر انکا قتل عام کر رہی ہے اورانکی خواتین کی عسمت دری کر رہی ہے اور آئے روز روہنگیائی مائیں اپنی عصمت دری کرنے والوں کے بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔ کشمیریوں اور لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں کی عزت، ناموس اور جان و مال کو روزپامال کیا جا رہا ہے۔ چین میں ایغور مسلمانوں پرحراستی کیمپوں میں تشدد کر کے انکی برین واشنگ کی جا رہی ہے اور انکی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ ان کے مردوں کو قتل اور عورتوں کو بزور طاقت چینی مردوں کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ آج تک، خطے کی کسی ایک بھی مسلم اکثریتی ریاست نے اس پر سخت احتجاج نہیں کیا- حتیٰ کہ تمام مسلم ریاستیں اس پر خاموش رہی ہیں- اگر کوئی آواز اٹھی بھی ہے تو یا انسانی حقوق کی علمبردار سیکولر تنظیموں یا پھر چین کی ترقی سے خائف ریاستوں کی طرف سے اٹھی ہے۔  جمہوریہ وسطی افریقی میں مسلمانوں کا نسلی طور پر صفایا کیا جا رہا ہے۔ یمن، شام، لیبیا، عراق، صومالیہ، سوڈان اور افغانستان خانہ جنگیوں یا گہری بدامنی کی لپیٹ میں ہیں جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔

جیواشم ایندھن [fossil fuels] سے بنے کاغذی شیروں، سعودی عرب اور ایران کے درمیان علاقائی کشمکش جس کو دونوں طرف سے متحارب اشرافیہ اپنی نااہلیوں کو چھپانے کیلئے فرقہ وارانہ شیعہ-سنی تنازعہ کہ طور پر پیش کرتی ہے، پورے خطے کو ایک بدترین علاقائی جنگ کی طرف لے جا سکتی ہے جو پوری دنیا کو اپنی لمیٹ میں لے سکتی ہے۔ اتحاد اور تعاون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں بھی یہی وجوہات ہیں جن کو سامنے لانا ضروری ہے۔

 

ایک مطلق العنان تھیوکریسی یا ایک روادار اسلامی اتحاد؟

خلافت کے کسی بھی دفاع کو بامعنی بنانے کے لیے، ماضی میں مسلم سیاسی فکر اور عمل کی مسلسل ناکامیوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنا اور اسے جدید دنیا میں ایک منظم مسلم سیاسی اتحاد کے مستند اور قابل عمل وژن سے ممتاز کرنا ہوگا۔ اس طرح کا نقطہ نظر نہ تاریخی ہونے کا متحمل ہوسکتا ہے، نہ ہی یوٹوپیائی، اور نہ ہی قرون وسطی کے کسی ایک ادارے یا کسی دوسرے کی محض تکرار ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، اس طرح کے اتحاد کو مسلمانوں کے درمیان مقامی سیاسی تغیرات، ثقافتوں اور مذہبی فرقوں کے حفاظت اور آزادی کے ساتھ ساتھ غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کی بامعنی اور مضبوط ضمانت دینی چاہیے۔ اس طرح کے تصور اور وژن کو پیش کرنے کیلئے فقط ایک مضمون پر انحصار ناکافی ہے اور اسکے لیے مسلم فقہا، ماہرینِ الہیات، سیاسی نظریہ سازوں اور بصیرت رکھنے والے رہنماؤں کی ایک پوری نسل کی ضرورت ہے۔ میں یہاں صرف تاریخ کی روشنی میں اس وژن کی  ضرورت اوراسکا مختصر تخیلاتی خاکہ پیش کررہا ہوں۔

ونڈربلٹ یونیورسٹی میں یہودیت اور اسلام کے اسکالر پروفیسر ڈیوڈ واسرسٹین نے حال ہی میں ISIS اور اس کی خلافت کی نظریاتی اور مذہبی جڑوں پر ایک مطالعہ، [Black Banners of ISIS: The Roots of the New Caliphat] کے نام سے شائع کیا ہے۔ چند سال پہلے انہوں نے ایک زبردست تقریر میں کہا تھا کہ یہ قرون وسطی، یعنی قدیم خلافت کا اسلام ہی تھا جس نے یہودیت کو ناپید ہونے سے بچایا۔

”اسلام نے یہودیوں کی حفاظت کی۔ یہ جدید دنیا میں ایک غیر مقبول دعویٰ ہے۔ لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ اس کیلئے دوہری دلیل موجود ہے۔ اولا، ۵۷۰ عیسوی میں، جب پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے تو یہودی اور یہودیت گمنام ہو رہے تھے۔ دوم، اسلام کی آمد نے انہیں بچایا، ایک نیا سیاق و سباق فراہم کیا جس میں وہ نہ صرف زندہ رہے، بلکہ پھلے پھولے، اور بعد ازاں یہودی ثقافتی خوشحالی کی بنیادیں ڈالیں – عیسائی دنیا میں بھی – قرون وسطی کے دور سے جدید دنیا تک . . . اگر اسلام نہ آتا تو مغرب میں یہودی معدوم ہو چکے ہوتے اور مشرق میں یہودی ایک اور مشرقی فرقہ بن چکے ہوتے۔”

ہمیں اس بات کا علم نہیں کہ کیا یہ ستم ظریفی موصوف پر پہلے ہی منکشف ہے۔ تاریخ میں خلافت اسلامی تہذیب کے وجود کے لیے ایک پیشگی شرط تھی، اور اسی نے قانون، الہیات اور مذہبی وژن جس نے اپنی خامیوں کے باوجود (asymptote کو یاد کریں)، عیسائیت اور یہودیت کی فکری طور پر متحرک حلقوں کی حفاظت کی اور ہیلینسٹک [Hellenistic] سائنس اور فلسفہ کی نشاۃ ثانیہ کی میزبانی کی۔ اس سے پہلے کہ ہم جلد بازی میں اس حقیقت کو مسترد کر دیں اور کہیں کہ ماضی کی یادوں میں گم ہونے کی ضرورت نہیں جب تاریخ کے پہیے کو پیچھے موڑا نہیں جا سکتا، واسرسٹین کی دو مثالوں کا تضاد ہمیں تھوڑا توقف کرنے کا سامان مہیا کرتا ہے۔ اگر خلافت کا وجود ہی نہ ہوتا اور اس نے اپنے زیر اثر دور دراز علاقوں پر اپنے طویل دور میں امن، استحکام، ثقافت اور تجارت جیسی چیزوں کی ضمانت نہ دی ہوتی یا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اتنی ہی جلدی ختم ہوجاتی جتنی تیزی سے اس نے اقتدار حاصل کیا تھا تو اسکا نتیجہ چھوٹی چھوٹی سلطنتوں کا تاریک دور ہوتا یا اس سے بھی بدتریونی قبائلی عصبیتوں کے فیصلے خوارجیوں (آج کےدور میں داعش کے مترادف) کے ہاتھوں ہر رہے ہوتے۔ ہماری تاریخ میں نہ اموی، نہ عباسی، اور نہ ہی عثمانی کامل خلیفہ تھے حتی کہ کچھ تو بس ظالم حکمران تھے- لیکن مجموعی طور پر ان سب کو اور مسلم مذہبی اور سیاسی اشرافیہ کو مسلم برادری کے اتحاد اور اس میں امن و امان کی ضمانت کی اہمیت کا مکمل ادراک تھا۔ یہی ہم مسلمانوں کا وہ متفقہ آئیڈیل ہے جس کی طرف اب ہم رجوع کریں گے۔

 

ماضی: تاریخ اور معیاری روایت

لفظ “caliphate” عربی لفظ خلافہ کا انگریزی متبادل ہے۔ اس کی جڑ (خاہ-لام-فا) “ترتیب، وقت، یا جگہ کے لحاظ سے کسی کے پیچھے یا پیچھے آنے” کے خیال کو ظاہر کرتی ہے۔ اسطرح ایک خلیفہ، ایک جانشین ہوتا ہے، جسے کسی پیشرو کی طرف سے کسی خاص ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے پیچھے چھوڑ دیا گیا ہوتا ہے۔ قرآن آدم اور اس کی اولاد کو “خلیفہ” کے لقب سے مخاطب کرتا ہے (۲:۳۰) جس کے معنی ابتدائی مفسرین نے کچھ اس طرح لیے ہیں “کسی ایسی قوم کا جانشین جس کا کبھی دنیا میں غلبہ تھا”۔ لیکن صحیح مسلم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مشہور دعا کے مطابق خدا بھی ایک مسافر کا “خلیفہ” ہے جو اپنے گھر اور خاندان کو خدا کی حفاظت میں چھوڑ دیتا ہے۔ اس استعمال سے پتہ چلتا ہے کہ “خلیفہ” کا “نائب” کے طور پر جدید ترجمہ غلط ہے، جیسا کہ بیسویں صدی میں یہ خیال مقبول ہوا کہ انسان خدا کے مابعد الطبیعاتی “نائب” ہیں۔ قرآن میں ایک اور جگہ زمین کا وارث قرار دیتے ہوئے “زمین کا خلیفہ” کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس لفظ کو سیاسی اختیار اور زمین کی مابعد الطبیعاتی ذمہ داری کے احساس کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ تخریب اور تکریم کے قرآنی تصورات سے یہ مابعد الطبیعاتی مفہوم (کہ خدا نے انسانوں کو عزت دی ہے اور ان کے لیے باقی تمام مخلوقات کو مسخر کیا ہے، ۱۷:۷۰، ۱۴:۳۲،۱۴:۳۳ وغیرہ) ثابت ہوتا ہے لیکن لسانی طور پر، اس زیر نظر اصطلاح، “خلیفہ” سے کوئی ضروری تعلق نہیں ہے۔  یہ محض لسانی جھگڑا نہیں ہے۔ مسلم مصنفین اور مستشرقین دونوں کی طرف سے ادب کی تمام اصناف نے اسی غلط فہمی سے جنم لیا ہے۔ بعض جگہ تو اس غلط فہمی کو استعمال کر کے قومی ریاست میں عوامی حاکمیت کے جدید تصور کو قرآن سے تعبیر کیا گیا ہے۔

تاہم، جس چیز میں ہماری دلچسپی ہے، وہ اس اصطلاح کا مسلمانوں کے سپریم لیڈر یا سیاسی حکمران کیلئے استعمال ہے۔ اس لحاظ سے، خلیفہ سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کی قوم کی قیادت اور سرپرستی کیلئے ان کی نیابت ہے۔ سنی اور شیعہ علماء، دونوں، مسلمانوں کے اس اعلیٰ ترین سیاسی رہنما امام (رہنما) کی اصطلاح بھی استعمال کرتے تھے گو کہ شیعہ نے امام کی اصطلاح اپنے مذہبی رہنما کیلئے مخصوص کر رکھی ہے جس کا سیاسی لیڈر ہونا ضروری نہیں۔تاریخی اعتبار سے چونکہ خلیفہ کی اصطلاح کا کوئی قطعی اور واضح سیاسی معنی نہیں تھا اور یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین کے طور پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کردار کی وضاحت کیلئے استعمال کی جاتی تھِی اس لیے امیر المومنین (مومنوں کا کمانڈر) کی زیادہ واضح اصطلاح خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور سے حکمران کو مخاطب کرنے کا عام طریقہ بن گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، جب سیاسی میدان مختلف قسم کے رہنماؤں جیسے امیر (فوجی کمانڈر)، سلطان (اختیار، بادشاہ) اور ملک (بادشاہ) سے بھر گیا تومسلمانوں کے سپریم لیڈر کیلئے لفظ خلیفہ کے استعمال پر ایک تاریخی اور سیاسی اتفاق پیدا ہو گیا۔

 

خلافت کے پانچ تاریخی نمونے

سنی اکثریت کے لیے خلافت کا پہلا اور واحد معیاری نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے چار جانشینوں پر مشتمل ہے، جنہیں بعد میں خلفاء راشدین (صحیح ہدایت یافتہ) کے لقب سے بھی منسوب کیا گیا۔ پہلے پہل، مذہبی اور سیاسی کردار میں منظم طریقے سے فرق نہ ہونے کی وجہ سے پیغمبر کا خلیفہ یا جانشین دونوں ذمہ داریوں پر براجمان ہوا کرتا تھا۔ ایک صدی سے بھی کم عرصے کے بعد،خلافت کا ایک اور ماڈل ابھرا جس میں خلافت بنیادی طور پر سیاسی حکمرانی تھی، اور مذہبی اختیارات خلیفہ اور علماء کے درمیان تقسیم ہونے لگے۔ جید علماء کی ابھرتی ہوئی تعداد نے شہری مسلم آبادیوں اور فکری مکاتب کے حقیقی سماجی و مذہبی رہنماؤں کی پوزیشن سنبھال لی۔ خلیفہ کے اختیارات عملی طور پر کبھی بھی مطلق نہیں تھے، لیکن علماء نے چوتھی/دسویں صدی سے ان اختیارات کی حدود متعین کرنا شروع کر دیں۔

ابتدائی خلفاء نے مدینہ کے چھوٹے سے قصبے سے دنیا کی سب سے بڑی سلطنت پر مساوی افراد میں بہترین (primus inter pares) کی بنیاد پر حکومت کی۔ یہ مساویانہ، براہ راست رسائی، اور تقویٰ پر مبنی ماڈل ایک وسیع، دور دراز سلطنت کے انتظام کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ناکافی تھا۔ اس طرح اس نے اموی اور عباسی دور کی شاہی خلافت کیلئے راستہ ہموار کیا۔ دوسری/آٹھویں اور تیسری/نویں صدیوں کے دوران، اپنے عروج کے وقت بغداد میں قائم عباسی خلافت فی کس آمدنی کے لحاظ سے دنیا کی تاریخ کی سب سے امیر اور خوشحال سلطنت تھی۔ اس نے قبل از اسلام کی ساسانی سلطنت کی علامات کو بھی اپنایا جس میں ایک شہنشاہ کو مکمل انصاف فراہم کرنے کے لیے ایک مطلق العنان حکمران والی چمک دمک اپنانی پڑتی تھی۔ خلیفہ کے اصل اختیارات، حقیقت میں اور اسلام کے قانون دونوں میں، کافی حد تک محدود تھے، اور بعض صورتوں میں بہت ہی کم تھے۔ یہ خلافت کا دوسرا نمونہ تھا۔

جیسے جیسے بغدادی خلفاء کی اصل طاقت ختم ہوتی گئی، ایک تیسرا ماڈل پیدا ہوا جس میں خلیفہ بنیادی طور پر ایک علامتی اور روحانی اتھارٹی تھا۔ مختلف صوبوں کے اصل حکمران مقامی گورنر یا حملہ آور فوجی کمانڈر ہوتے تھے جن کے پاس موروثی جواز نہیں تھا اور وہ خلیفہ سے وفاداری نبھا کر اسکی حمایت تلے حکومت کرتے تھے۔ اسی دور میں اسلامی قانون، الہیات، اور سیاسی افکار کو عکجا کیا گیا۔ خلیفہ کی علامتی طاقت ناگزیر تھی، اور اس کی حقیقی طاقت کی بازیابی کا امکان بعید از قیاس نہیں تھا۔ بارہویں صدی کا مشہور اسلامی ہیرو، صلاح الدین، جس نے یروشلم کو صلیبیوں سے آزاد کرایا تھا اور اپنے عظیم رویے سے دل جیت لیے تھے، بغدادی خلیفہ کی تائید اور توثیق کی خواہش لیے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خواہ کسی حکمران کے کارنامی کچھ بھی ہوں اسکے لیے خلیفہ کی تائید انتہائی اہمیت کی حامل تھی۔

مسلمانوں پر یہ بات تیزی سے واضح ہوتی گئی کہ خلیفہ دو زاویوں سے امت مسلمہ کے تسلسل کی نمائندگی کرتا ہے: (۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور  خلفائے راشدین سے علامتی تعلق جن کا طرز عمل سنہری معیار رہا، اور (۲) تمام مسلمانوں کا مقامی تسلسل (یا اتحاد)، جو اب افریقہ، ایشیا اور یورپ کے معاشروں میں ایک مربوط نیٹورک کی طرح پھیلے ہوئے تھے اور مختلف مقامی بادشاہوں اور گورنروں کے زیر تسلط تھے۔ اس دو طرح کے تسلسل نے سیاسی تقسیم، مذہبی فرقہ واریت، اور ثقافتی دشمنیوں کو قابل انتظام بنایا، اور بدترین مرکزیت کے رجحانات [centrifugal tendencies] کوروکتے ہوئے خطے کو مسلسل جنگ اور وحشیانہ تباہی سے بچایا۔ یہ معاشرے بڑی حد تک اسلام کے قانون کے تحت خود مختار تھےاور مقامی حکمرانوں کے زیر انتظام تھے۔ بادشاہوں یا سلطانوں نے ایک ‘بٹلر’ یا ایگزیکٹو برانچ کا کردار ادا کیا، جو قانون کی حفاظت اور اسکی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے اہم تھے لیکن اس کے باوجود تبدیل کیا جا سکتے تھے۔ وہ آئے اور اس میگا سوسائٹی کے اصولوں، قوانین یا اداروں کو تبدیل کیے بغیر چلے گئے۔ اس تیسرے ماڈل کو “روایتی اسلامی دستوریت” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ پہلی دو صدیوں کو چھوڑ کر، اسلامی تاریخ کے بیشتر ادوار میں خلافت کی یہی تصویر نظر آتی ہے۔

معاملات کاملیت سے بہت دور تھے اور الماوردی (متوفی 450/1058)، الجوینی (متوفی 478/1085)، الغزالی (متوفی 505/1111) سے ابن تیمیہ (متوفی 728/1328) تک سیاسی امور پر تحقیق اور اظہار خیال کرنے والی بیشتر با اثر علماء نے فوجی غاصبوں کے ہاتھوں خلیفہ کے اقتدارپر تسلط کو ناقابل قبول قرار دیا گو کہ وہ غیر معمولی صورت حال میں اسے قابل قبول سمجھتے تھے۔ الغزالی نے اپنے زمانے کے سلجوق سلاطین؛ جنہوں نے عباسی خلیفہ کی اتھارٹی کو صرف برائے نام قبول کیا تھا لیکن عملا اس اتھارٹی کو نہیں مانتے تھے، کو قبول کرنے کو مردار کھانے سے تشبیہ دی؛ جس کی اجازت صرف حلال کی عدم موجودگی میں جان بچانے کے لیےہوتی ہے۔ اس زیل میں دوسرےکبار علماء خصوصا ابن تیمیہ کے بھی اس سے ملتی جلتی رائے رکھتے ہیں۔ ۶۵۶/۱۲۵۸ میں منگول حملے سے پہلے اس ماڈل کے پہلے نصف کے دوران، بغداد میں مقیم خلیفہ کی علامتی طاقت تو نمایاں تھی ہی، لیکن اس کے بعد بھی مملوک دور میں، جب عباسی خلیفہ، جو اب قاہرہ میں تھا اور تمام طاقت کھو بیٹھا تھا، کا سرکاری مراسلہ دہلی اور ٹمبکٹو جیسے دور دراز مسلم علاقوں کی لیے بھی اقتدار پر قبضے کی بجائے قانونی جواج اور مسلمانوں کے سیاسی ڈھانچے کی اصل نمائندگی کی ضمانت دیتا تھا۔

خلافت کا چوتھا نمونہ جو کہ دوسرے اور تیسرے کا امتزاج تھا، اس وقت سامنے آیا جب عثمانیوں نے سیاسی طور پر مشرقی یورپ، مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کو ایک سلطنت کے تحت متحد کیا جو تقریباً چار سو سال تک  اس وقت کی سب سے کامیاب، مستحکم اور طاقتور سلطنت کے طور پر قائم رہی۔ عثمانی سلاطین (جنہوں نے قاہرہ میں مملوکوں کو شکست دینے کے بعد “خلیفہ” کا لقب اختیار کیا تھا) نے شریعت کے اس قانون کو برقرار رکھا جس کی وضاحت علماء کرام نے مفتیوں اور ججوں کے طور پر کی تھی۔ اس لیے خلیفہ یا سلطان کے اختیارات محدود تھے۔ ہمارے پاس ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں وقت کے سلطان اس وقت کے قاضی القضی کے فیصلوں سے معزول ہوئے۔ اس کے باوجود سلاطین استبداد سے کام لے کر اقتدار حاصل کر سکتے تھے حتی کہ جو اسلامی اصول ان کے مفادات پر اثر انداز ہوتے تھے انہیں پس پشت ڈال دیتے تھے۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں عثمانیوں اور ہندوستان میں مغلوں کے برعکس، جنہوں نے ہندو اکثریت پر حکمرانی کی، ان کے شیعہ حریف صفویوں نے اپنی قانونی حیثیت مضبوط تھیوکریٹک دعووں پر رکھی۔ خلافت کے عثمانی دعوے کو بعض اوقات صوفیانہ آئینے سے دیکھا جاتا تھا۔ اناطولیہ کے تصوف نے عثمانی خلیفہ کو تمام مسلمانوں کے لیے ایک حکمران، روحانی رہنما، اور قانون ساز کے طور پر روشناس کروانے میں مدد کی، حالانکہ تینوں وسیع مسلم سلطنتوں کو ایک سیاسی ترتیب میں شامل کرنے کے لیے کوئی سیاسی کوشش نہیں کی گئی تھی اور شاید ایسی کوشش بھی ناقابل تصور تھی۔

خلافت کے آخری تین ماڈلز میں ایک اہم مشترک عنصر یہ ہے کہ خلیفہ نے محدود عوامی معاملات کے علاوہ مذہبی اختیارات حاصل نہیں کیے تھے۔ عثمانیوں میں بعض اہل تصوف خلیفہ کو زمین پر خدا کا سایہ تصور کرتے تھے، یہاں تک کہ پیشن گوئیاں کرنے کیلئے اور پالیسیوں کو درست ثابت کرنے کے لیے جادو کا استعمال بھی کیا جا سکتا تھا، لیکن حنفی قانونی اسٹیبلشمنٹ، جو کہ سلطنت کی ریڑھ کی ہڈی تھی، نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اس طرح کے دعوے صرف صوفی حلقوں میں قائم رہیں۔ مستشرقین کے علوم کے مشہور نو قدامت پسند ماہر، برنارڈ لیوس نے اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ: (سنی) اسلام میں کوئی تھیوکریسی موجود نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ یہ سنی فقہ کی موروثی علمی تکثیریت اور خدا کے لیے بات کرنے کے لیے قرون وسطیٰ کے چرچ جیسے کسی ادارے کی کمی کی بدولت ہے۔ صحیفے اور روایت کی ترجمانی کرنے والی آوازوں کی کثرت کے دو مطلب تھے: یہ کہ مذہبی اتھارٹی منقسم تھی اور حکمران اشرافیہ کبھی بھی مذہبی اتھارٹی کو کنٹرول نہیں کر سکتی تھی، اور اس کے نتیجے میں، سماجی مذہبی چیک اینڈ بیلنس کا ایک نامیاتی [organic] نظام وجود میں آیا۔

خلافت کا تیسرا اور چوتھا ماڈل، جو مجموعی طور پر ایک ہزار سال پر محیط تھا، مختصراً، نہ تو تھیوکریٹک تھا اور نہ ہی مطلق العنان۔ ان دو ماڈلوں نے اپنی حکمرانی کے تحت کمیونٹیز کو بڑے پیمانے پر آزادی کی ضمانت دی: مختلف فرقوں کے مسلمان،اور یہودی، عیسائی اور دیگر گروپ نسبتاً آزاد گروہوں کے طور پر رہ سکتے تھے۔ اگرچہ یہ ماڈل بھی کاملیت سے دور تھا لیکن اس نظام نے جدید مسلم ریاستوں اور یہاں تک کہ بہت سی جمہوریتوں کے مقابلے میں منصفانہ اور خدا پر مبنی زندگی کو آسان بنانے میں زیادہ مؤثر طریقے سے کام کیا۔ جدید لبرل ماڈل کے برعکس، کمیونٹیز اور اسی لیے فرقہ وارانہ اصولوں کو کسی بھی مہذب انسانی وجود کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا جسکی وجہ سے غیر مسلم بھی ان مذہبی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے آزاد تھے جن پر وہ یقین رکھتے تھے۔ انفرادی اور اجتماعی حقوق کے درمیان توازن کی سوئی اکثر اوقات اجتماعی حقوق کی طرف ڈھلک جاتی تھی۔ یونانیوں کے بارے میں رومیوں کی طرح عثمانی ادارے بنانے والے بہترین منتظمین تھے، اور انہوں نے محفوظ کمیونٹیز، ذمیوں کے قرآنی ماڈل کو متعدد مذہبی برادریوں کے ادارے میں تبدیل کر دیا جس کی نمائندگی دارالحکومت میں ان کے رہنما کرتے تھے۔ یہ بعد میں ملی نظام کے نام سے مشہور ہوا۔

جب انیسویں صدی کی جدید قومی ریاستوں نے پہلی بار معاصر طاقتوں کے طور پر عثمانیوں کا مقابلہ کیا اور معاشی اور فوجی طاقت میں اسے پیچھے چھوڑ دیا تو عثمانیوں نے نہایت قلیل وقت میں اپنی فوج، معیشت اور معاشرے کو جدید بنانے میں بڑی پیش رفت کی۔ عثمانیوں نے سلطان کی طاقت پر پرانی نامیاتی، سماجی اور فرقہ وارانہ حدود بندی کو ایک آئین سے بدل دیا لیکن انہیں پہلی جنگ عظیم میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جدید مورخین کی رائے ہے کہ عثمانی سلطنت کو ایک غیر مستحکم اور زوال پذیر حکومت یعنی “یورپ کا بیمار آدمی” تصور کرنا ایک غلط خیال تھا، درحقیقت اگر عثمانی جنگ میں دوسری طرف کا انتخاب کرتے تو شکست سے بچ سکتے تھے۔ ہم اس مختصر مدت کی آئینی خلافت کو خلافت کا پانچواں ممکنہ نمونہ کہہ سکتے ہیں۔

 

خلافت کا نظریہ

خلافت کی بنیاد کو اس کے مختلف مظاہر سے الگ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، سنی روایت نے خلافت کا نظریہ نہایت احتیاط سے پیش کیا، اس کی ذمہ داری، اس کے افعال، نوعیت اور حدود کی بنیاد قائم کی، اور خلفاء راشدین کے ماڈل سے منسلک رہتے ہوئے اس کی تبدیلیوں کا جواب  دینے کی کوشش کی۔ یہ ایک پیچیدہ مشق تھی؛ ہر وہ اختلاف جس کا تصور کیا جا سکتا تھا، ہو چکا تھا، اور سرکردہ فقہی ماہرین نے ثبوتوں اور جوازوں کی ایک محتاط عمارت تعمیر کی اور اس پر مسلسل غور کیا۔ حیرت کی بات نہیں کہ ادارے کا محتاط نظریہ سب سے پہلے سنی علماء کے ہاتھوں پانچویں/گیارہویں صدی میں عین اس وقت ہوا جب ادارے کے وجود کو خطرہ لاحق تھا۔ پہلی دو صدیوں کے دوران مذہبی طبقے کے مسلسل اتحاد اور وجود کے لیے خلافت کی سراسر ضرورت نے وسیع نظریاتی دفاع کو ضرورت سے زیادہ بنا دیا، حالانکہ ہمیں اسلام میں قدیم ترین محفوظ شدہ خطوط میں سے ایک اموی سکریٹری عبد الحمید ال کا ملتا ہے۔ – کاتب (متوفی 132/750)، خلافت کو ایک خدائی ذمہ دار ادارے کے طور پر نظریہ بنانے اور اس کا دفاع کرنے سے متعلق ہے جس نے پیغمبر کے مشن کو جاری رکھا۔

تمام بچ جانے والے مسلم مکاتب اور فرقے مسلم کمیونٹی کے لیے ایک رہنما مقرر کرنے کی ذمہ داری پر متفق تھے۔ سنی اور شیعہ اس بات پر متفق تھے لیکن دفتر کے بارے میں ان کے تصورات مختلف تھے۔ امامی شیعوں نے ایمان کی تعریف میں ایک امام پر عقیدہ – علید خاندان کا ایک منتخب نسل – اور خدا پر ایک فرض (لطیف، یا خدائی فضل کے طور پر) شامل کیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ ایک سچائی کو جاننا اور اس پر یقین کرنا۔ امام (چاہے وہ اقتدار میں نہ ہو یا جسمانی طور پر موجود نہ ہو) تمام انسانوں پر فرض ہے۔ 35 زیدی شیعہ علید خاندان کے ایک نسل کے حکمرانی کے حق پر یقین رکھتے تھے، لیکن جس نے کامیابی کے ساتھ عہدہ کے لیے اپنی فٹنس کا مظاہرہ کیا۔ غیر منصفانہ حکمرانی کے خلاف بغاوت اور قیادت کا دعویٰ۔ اس کے برعکس سنی، خلافت کے قیام کو ایک اجتماعی فریضہ سمجھتے تھے۔ فرق باریک ہے: شیعوں کے لیے، صحیح امام کو نہ ماننا بدعت ہے اور ہوسکتا ہے کہ کسی کے ایمان کو باطل کردے۔ اہل سنت کے نزدیک صحیح امام نہ لگانا یا اس کی کوشش نہ کرنا گناہ ہے۔ ابعادی – جو اعتدال پسند اور واحد خارجی فرقہ ہے جو ابتدائی دور کے بعد زندہ رہا ہے – ایک عادل امام/خلیفہ کی ذمہ داری پر یقین رکھتے ہیں، لیکن، شیعہ اور زیادہ تر سنیوں کے برعکس، اور عثمانیوں کے بعد کے بیشتر سنیوں کی طرح، وہ اس کی ضرورت نہیں رکھتے۔ امیدوار قریش یا کسی خاص نسب سے ہو۔

خلیفہ کے بغیر اسلامی زندگی کے امکان کے بارے میں رائے مختلف تھی۔ کچھ، جیسے الغزالی، اس حد تک چلے گئے کہ ایسے حالات میں اسلامی زندگی کے جواز سے انکار کر دیا۔ دوسروں نے، جیسے ان کے استاد اور اپنے زمانے کے اشعری ماہر الہیات اور شافعی فقیہ ابو المعالی الجوینی نے اپنے شاندار، تخیلاتی مقالے غیاث العلم فی الطیاء العلم میں اس طرح کے منظر نامے پر غور کیا۔ ڈسٹوپیئن مستقبل کا تصور کرتا ہے جس میں مسلمانوں کے پاس مناسب اہلیت کے ساتھ خلیفہ نہیں ہوسکتا ہے، یا کوئی خلیفہ نہیں ہے، علماء کو کمیونٹی کی قیادت کرنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں، اور آخر میں، اہل علماء کی غیر موجودگی اور اس بات کے بارے میں ہدایات کہ مسلمان ایسے معاملات میں کیا کرسکتے ہیں. چند بالواسطہ آیات اور واحد احادیث کا حوالہ دینے سے مطمئن نہیں، وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ چونکہ خلافت کی یقینی ذمہ داری کے لیے قطعی ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے اسے صحابہ کرام کے اجماع کی بنیاد پر قائم کیا جانا چاہیے، جو کہ ایک مذہبی کے لیے سب سے زیادہ قابل تصور اتھارٹی ہے۔ وہ استدلال کرتا ہے کہ بہت سے عقلی لوگ ایک سوال کے جواب پر متفق نہیں ہو سکتے جب تک کہ کوئی وجہ نہ ہو، اور صحابہ کے معاملے میں یہ وجہ قرآن کی تعلیمات کے بارے میں ان کی مشترکہ سمجھ تھی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے اتفاق رائے نہ تو حادثاتی تھا اور نہ ہی محض ضرورت سے پیدا ہوا تھا۔ جیسا کہ مدینہ کے مددگاروں (انصار) کا بنو سعیدہ کے پورٹیکو میں ملاقات میں ابتدائی اختلاف ظاہر کرتا ہے، یہ غور و فکر کے بعد اس بات پر پہنچا کہ ابوبکر اور عمر نے واضح طور پر دیکھا، اور اس کے بعد سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس کی ضرورت ناقابل تردید ذمہ داریوں سے پیدا ہوئی ہے.

منگول کے بعد کے دور میں (ساتویں/تیرہویں صدی کے بعد)، شدید عجلت اور عدم تحفظ کے حالات میں غصب کرنے والے طاقتوروں کو عملی طور پر جواز پیش کرنے کے پہلے رجحان نے کسی بھی غاصب کو جواز فراہم کیا جو کمیونٹی یا اس کے کچھ حصے کا دفاع کر سکتا تھا۔ اس دور کے سب سے زیادہ اصل مصنفین بشمول ابن خلدون اور ابن تیمیہ دونوں نے خلافت کی ذمہ داری پر زور دیا لیکن سیاسی سوچ میں بھی نئی بنیاد ڈالی۔ ابن خلدون نے سیاسی طاقت کی سماجی، مادی اور نفسیاتی بنیادوں کا نظریہ پیش کیا، اس طرح جدید دور میں اس طرح کی سوچ کے عام ہونے سے کئی صدیاں قبل تاریخ اور سیاست کے نظریے کو جنم دیا۔ ابن تیمیہ نے خلافت کی ذمہ داری پر سوال اٹھائے بغیر، منگول کے بعد کی خلافت کی سراسر ناکارگی کو تسلیم کیا اور فرقہ وارانہ جوش و خروش اور ایک بڑھتے ہوئے سیاسی ماڈل کو بحال کرنے کی کوشش کی جس میں شریعت کو برقرار رکھنا حکمران کی قانونی حیثیت کا مرکزی جہت بن گیا۔ بغداد کی منگول تباہی سے پہلے، خلافت کو دنیا کی تخلیق کے طور پر دیکھا جاتا تھا جس میں شریعت کو بیان اور ترقی دی جا سکتی تھی۔ یہ حقیقت، خلافت کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تسلسل کے دعوے کے ساتھ، کسی خاص صحیفے کے جواز سے زیادہ مضبوط تھی: خلافت شریعت سے بڑی تھی۔ الماوردی اور الغزالی جیسے علماء نے خلافت کا ثبوت صرف اس وقت فراہم کیا جب وہ محسوس کرتے کہ اسے خطرہ لاحق ہے۔ اب، منگول کے بعد کی دنیا میں، یہ شریعت تھی جس نے ہر جگہ اسلامی حکومتیں قائم کرنے کی تحریک فراہم کی جب تک کہ صحیح خلافت بحال نہ ہو جائے۔ ابن تیمیہ نے ایسی اسلامی سیاست کے لیے صرف پہلی دلیلیں فراہم کیں۔ اس کے بعد تمام مکاتب فکر کے علماء نے – اور خاص طور پر عثمانی سیاسی فکر میں – نے “شرعی سیاست” کی اس فطری ترقی کو تسلیم کیا۔

ان دعوؤں کو حقیقت اور ساخت دینے کے لیے، آئیے ہم مختلف مکاتب فکر کے علماء کی طرف سے فراہم کردہ خلافت کے دعوؤں اور جوازوں کی اقسام کے نمونے پر غور کریں۔ انسائیکلوپیڈک عالم ابن حزم (متوفی 456/1064) نے سپین میں اور اس لیے عباسی خلافت کی روایتی سرزمینوں سے باہر لکھا:

“تمام اہل السنۃ، تمام مرجع، تمام شیعہ اور تمام خوارج نے امامت کی ذمہ داری پر متفقہ طور پر اتفاق کیا ہے اور یہ کہ امت پر واجب ہے کہ وہ ایک عادل امام کی اطاعت کرے جو ان پر خدا کے احکام قائم کرے، اور ان کے معاملات کو سنبھالے۔ اللہ کے رسول کی طرف سے لایا گیا قانون۔ صرف خارجیوں کی نجادات مستثنیٰ ہیں جنہوں نے کہا کہ لوگوں پر امام کا کوئی فرض نہیں ہے۔ بلکہ ایک دوسرے کے حقوق کو پورا کرنا ان پر ہے۔”

ابن حزم کا حوالہ دوسری خانہ جنگی (60-70) کے دوران مٹھی بھر بنیاد پرستوں کی طرف ہے، جب خوارج اور چند معتزلہ ابتدائی اختلافات کے ابتدائی دنوں میں خلافت کی ذمہ داری پر سوال اٹھا سکتے تھے۔ لیکن پھر، حتیٰ کہ بنیادی عقائد جیسے کہ حدیث کی سند، عقلی تشبیہ کی توثیق، آخری دو خلفائے راشدین کی صداقت، حتیٰ کہ مسلمانوں کی زندگی کا تقدس بھی ان گروہوں کے لیے منصفانہ کھیل تھے۔ ایسے ہی ایک آزاد سوچنے والے نے تقریباً جوابی دلیل دی: اگر تمام مومنین رضا کارانہ طور پر خدائی قانون کے مطابق زندگی گزاریں تو کسی حکومت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ نوٹ کریں کہ اس نے متبادل کے طور پر سیکولر حکومت کا مشورہ نہیں دیا، لیکن سیاسی نظم کی ضرورت سے یکسر انکار کیا۔ ایک اور نے استدلال کیا، تقریباً انتہائی حقیقت میں، کہ یہ غیر امام کی صورت حال صرف خانہ جنگی کے زمانے میں لاگو ہوتی تھی، اور ایک کے دوران کسی امام کی بیعت ضروری نہیں تھی۔ اب بنیادی مانے جانے والے بہت سے دوسرے عقائد کے مقابلے میں متفق ہیں۔

سرکردہ حنفی ماتوریدی اتھارٹی کا عقیدہ (العقاید النصفیہ) ابو حفص النصفی (متوفی 537/1142) کہتا ہے: “مسلمانوں کو اپنے احکام نافذ کرنے، حدود اور سرحد کو قائم کرنے کے لیے ایک امام ہونا چاہیے۔ ” اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فارسی پولیمتھ اور اشعری ماہر الہیات تفتازانی (متوفی 792/1390) نے لکھا:

“اس بات پر اجماع ہے کہ امام کا قیام فرض ہے۔ اختلاف اس بات پر ہے کہ فرض خدا پر ہے یا مخلوق پر، وحی دلائل سے یا عقلی؟ اور [ہمارا] مکتب کہتا ہے کہ یہ وحی کے ذریعے مخلوق پر فرض ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “جو شخص اپنے زمانے کے امام کو جانے بغیر مرے وہ زمانہ جاہلیت میں مرے” ایک امام کے بارے میں ان کی سب سے زیادہ فکر، حتیٰ کہ اس کی تدفین سے پہلے (یعنی پیغمبر کی) اور اسی طرح ہر امام کی وفات کے بعد ہونا چاہیے، کیونکہ شریعت کے بہت سے فرائض اس پر منحصر ہیں۔

اپنے دور کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے جب اسلام کی مرکزی سرزمین، شام اور مصر، مملوکوں کے زیر تسلط تھے اور مشرق (فارس اور ٹرانسوکسیانا) کو تیمرلین (تیمور لنگ) نے تباہ کیا تھا، تفتازانی نے وضاحت کی کہ کیوں صرف ایک امام ہونا چاہیے۔ تمام علاقے:

“اگر کہا جائے کہ ہر علاقے میں حاکم مقرر کرنا کیوں کافی نہیں ہے، یا عام اختیار رکھنے والے کو مقرر کرنا کیوں واجب ہے؟” ہم کہتے ہیں: کیونکہ اس سے جھگڑا اور عداوت جنم لے گی، جس سے دین اور دنیا کے معاملات خراب ہوں گے، جیسا کہ ہم اپنے زمانے میں گواہی دیتے ہیں۔

اس کے بعد وہ عام جدلیاتی انداز میں پوچھتا ہے کہ اپنے دور کے ترکوں جیسا فاتح کیوں (جس کا غالباً تیمرلین ذہن میں تھا) کافی نہیں ہو سکتا تھا اور اس لیے ایک امام ہونے کی ضرورت کیوں تھی۔ اس پر، اس نے جواب دیا کہ تمام مسلم سرزمین پر ایسا حکمران اب بھی کچھ فرائض سرانجام دے گا لیکن یہ کہ “مذہب کا معاملہ، جو سب سے اہم اور سب کا مرکزی ستون ہے، اس کے بغیر بگڑ جائے گا۔”

اسلامی دنیا کے مغربی حصوں میں اسی وقت کے بارے میں لکھتے ہوئے، عظیم مورخ اور مالکی فقیہ ابن خلدون (متوفی 808/1406) نے اجماع کو مختصراً بیان کیا ہے:

“لیڈر کا تقرر فرض ہے۔ اس کی لازمی نوعیت صحابہ کرام اور تابعین کی نسل کے اجماع سے نازل شدہ قانون کے ذریعے معلوم ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کی وفات پر بیعت کرنے اور اپنے معاملات ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سپرد کرنے میں جلدی کی۔ اور اس کے بعد کے ہر دور میں ایسا ہی ہوتا رہا اور یہ معاملہ اجماع کے طور پر قائم ہوا جس میں قائد کے تقرر کی ذمہ داری کی نشاندہی کی گئی۔

اس کے بعد ابن خلدون اپنے اشعری وعدوں کے مطابق یہ استدلال کرتا ہے کہ خلافت کے قیام کی ذمہ داری (دیگر تمام ذمہ داریوں کی طرح) نازل شدہ قانون سے ماخوذ ہے نہ کہ عقل سے اور اس لیے اسے عقلی فیصلے سے معطل نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ ابن خلدون نے خلافت کو برقرار رکھا۔ اس نے اس کی تاریخ کی وضاحت اور اس کی واپسی کی وکالت کے لیے اپنا شاہکار لکھا۔ اسلامی تہذیب کے ایک معروف مغربی اسکالر، ہیملٹن گِب نے دلیل دی کہ ابن خلدون کی فکر میں خلافت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اس کا اندازہ اس طریقے سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے ابواب منطقی طور پر خلافت تک پہنچنے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں، جہاں وہ ریاست کے زوال اور اس کی آخری تباہی کے اسباب کا تجزیہ کرنے سے پہلے اس سے وابستہ تنظیم پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں۔ اس تاثر سے بچنا ناممکن ہے کہ وہ سیاسی طاقت اور گروہی یکجہتی کے ارتقاء کا تجزیہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کے دیگر مسلم فقہاء کی طرح شریعت کے مثالی تقاضوں کو حقائق کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے مسئلے سے بھی سروکار رکھتے تھے۔ تاریخ کے 47 دوسرے، معتزلہ، شیعہ، ابن تیمیہ جیسے روایت پرستوں نے استدلال کیا کہ خلافت کی ذمہ داری، دیگر تمام ذمہ داریوں کی طرح، وحی اور عقل دونوں سے معلوم ہوتی ہے۔

علماء نے متعدد وجوہات، یا عقلی افعال پیش کیے، جن سے حکومت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض کے نزدیک یہ افعال واجب کا سبب یا جزو ہیں؛ دوسروں کے لیے، وہ اس کے فائدے ہیں، لیکن ذمہ داری خود کسی بھی فائدے سے آزاد ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اسلامی زندگی کے جواز کے لیے خلافت کی مکمل رسمی ضرورت پر زور دیا، جیسے الماوردی اور اس سے بھی بڑھ کر الغزالی، ان کے لیے یہ فرض تھا کہ وہ خلیفہ کا قیام کرے چاہے اس کے پاس موثر طاقت نہ ہو ( شوکا، مُنّا) اور اپنے بنیادی کاموں کو برقرار رکھنے کے لیے دوسروں (مثلاً، سلطانوں) پر انحصار کرنا پڑا۔ دوسروں کے لیے، جیسا کہ الجوینی اور ابن تیمیہ، حدث کو برقرار رکھنے، امن و امان کو برقرار رکھنے اور کمیونٹی اور اس کے مذہب کے دفاع کے لیے موثر طاقت خلیفہ کی تعریف کا لازمی جزو تھا۔

علمائے کرام نے آج تک ایمانداری کے ساتھ استدلال کی اس سطر کو دوبارہ پیش کیا ہے۔ گیارہویں/سترہویں صدی کے دمشقی فقیہ نے فقہ حنفی کے اپنے مستند مجموعہ میں نوٹ کیا ہے:

“بڑے امام (خلافت) لوگوں پر عام تصرف کا حق ہے۔ اس کی تحقیق کلام میں ہے اور اس کا قائم کرنا واجبات میں سب سے اہم ہے۔ چنانچہ انہوں نے (صحابہ کرام) نے اسے معجزات کے مالک کی تدفین پر ترجیح دی۔

خلافت اسلامی عقیدہ میں اس قدر مرکزی حیثیت کیوں رکھتی ہے؟ بنیادی طور پر، کیونکہ یہ اسلام کا واضح مسئلہ تھا- جیسا کہ تثلیث عیسائیت کے لیے تھی۔ کمیونٹی کی صحیح قیادت کا نظریہ عقیدے کی تعریف میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ ابتدائی فرقوں نے مرکزی دھارے کی کمیونٹی کی درستگی اور تندرستی کو خدا کے پیغام کے کیریئر اور مجسم ہونے کے طور پر سوالیہ نشان بنا دیا تھا۔ قرآن اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرنے والے طبقے کی درستگی کا جواز پیش کرنا، اس لیے مرکزی ‘مسئلہ کی جگہ’ تھی جس کے اندر اسلام کی پہلی دو صدیوں کے دوران زیادہ تر اسلامی سوچ کی تشکیل ہوئی تھی۔

مسلمانوں کے سیاسی اتحاد کو سب سے بڑی تشویش قرار دینے کے صحابہ کے متفقہ فیصلے کی پہلی مثال، جس کی جھلک ابوبکر کے انتخاب سے ظاہر ہوتی ہے، ان لوگوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے جو مدینہ کی اتھارٹی سے علیحدگی اختیار کرچکے تھے، ان کے اتفاق میں واقعی مستحکم تھی۔ انہوں نے اس معاملے پر محض تجریدی رائے کا اظہار نہیں کیا بلکہ اس کی بنیاد پر ہتھیار اٹھائے۔ ایسا کرتے ہوئے، انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے طرز عمل کی پیروی کی جنہوں نے برادری کو چھوڑ دیا یا اسے تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ اجماع کی اگلی واضح تصدیق اس وقت ہوئی جب علی (عراق میں مقیم) نے معاویہ (شام میں مقیم) کے خلاف صفین میں جنگ کی۔ علی نے کبھی بھی فرق کو تقسیم کرنے اور مسلم کمیونٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا خیال نہیں کیا تاکہ خونریزی کو روکا جا سکے، جو بڑے پیمانے پر نکلا۔ اسی طرح جب عبداللہ بی۔ مکہ میں الزبیر نے شام میں امویوں کا مقابلہ کیا، اسی طرح امن کی خاطر کمیونٹی کو تقسیم کرنے کا کبھی امکان نہیں سمجھا گیا۔ جب ابن عمر اور دیگر سرکردہ حکام نے ابن الزبیر کی بیعت کرنے سے انکار کیا تو انہوں نے بالکل اسی بنیاد پر ایسا کیا: ابھی تک جماعت ان کے ماتحت متحد نہیں ہوئی تھی۔

خلیفہ کے افعال کے بارے میں کلاسیکی سنی علما کا نظریہ امام علی علیہ السلام سے منسوب ایک بیان میں بہترین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ جب اس کی فوج میں بنیاد پرستوں نے شامی باغیوں کے خلاف جنگ میں ثالثی کو قبول کرنے کے لیے رہنما کی حیثیت سے اپنے حق کا مقابلہ کیا، تو اس نے امت کے امور پر حکومت کرنے کے لیے انسانی رہنما کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جواب دیا:

علی نے کہا: لوگوں کے پاس امامت ہونی چاہیے، خواہ وہ پرہیزگار ہو یا بدکار۔ انہوں نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین ہم متقی کو سمجھتے ہیں لیکن اگر وہ بدکار ہے تو کیوں؟ آپ نے فرمایا: “اس کے ذریعے سے احد قائم کیا جاتا ہے، سڑکوں کی حفاظت ہوتی ہے، دشمن کے خلاف جہاد کیا جاتا ہے، اور مال غنیمت تقسیم کیا جاتا ہے۔”

اگر عام طور پر حکومت ایک عقلی ضرورت تھی، تو خلافت کو حکومت کی صحیح اسلامی شکل کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اس کو سمجھنے کے لیے ایک مددگار مشابہت شادی ہے، صحبت اور تولید کے لیے نر اور مادہ کا جوڑا: تمام انسانی ثقافتیں اس ادارے کی کسی نہ کسی شکل پر قائم ہوتی ہیں، اس میں پابندیاں، تقاریب، رسومات اور برکات کی دعائیں شامل ہوتی ہیں۔ اسلامی شادی اپنے بنیادی کام کے لحاظ سے بنیادی طور پر مختلف نہیں ہے، لیکن دوسری روایات میں مروجہ صحبت کی بہت سی شکلیں ممنوع ہیں اور اس میں شامل بعض پابندیاں، رسومات اور قانونی ضابطے اسے ایک مخصوص اسلامی شکل بنا دیتے ہیں۔ چنانچہ ابن تیمیہ السیاسۃ الشریعہ میں بیان کرتے ہیں:

’یہ جان لینا چاہیے کہ لوگوں کے امور کی حکومتی ذمہ داری دین کے سب سے بڑے فرائض میں سے ہے اور درحقیقت اس کے بغیر دین قائم نہیں ہو سکتا، کیونکہ بنی آدم کی فلاح و بہبود کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ سوائے ان کے ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اکٹھے ہونے کے۔ . . یہی وجہ ہے کہ وہ تمام چیزیں جو [خدا نے] فرض کی ہیں، جیسے جہاد، عدل، حج کا قیام، جمعہ کے اجتماعات، عید کے تہوار، مظلوموں کی مدد، اور خدا کی حد بندی کا قیام صرف طاقت اور اختیار سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔”

جو چیز خلافت کو کسی دوسری حکومت سے الگ کرتی ہے، وہ ہے، سب سے پہلے، رسمی طور پر، آئینی اصول (اس کا ماخذ، حدود، انجام اور افعال)۔

خلافت پر حتمی کلاسیکی تصنیف الماوردی نے تصنیف کی تھی، جو بغداد کے چیف جج اور اپنے وقت کے معروف شافعی تھے۔ اس نے خلیفہ کی معیاری وضاحت دی، یعنی کہ ایک خلیفہ “پیغمبر کا جانشین ہوتا ہے جو دین کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے ذریعے معاشرے کے دنیاوی امور کو چلاتا ہے”۔

تقریباً تمام تعریفیں ان عناصر کا ذکر کرتی ہیں، یعنی کہ ایک خلیفہ نبی کے مقام پر کھڑا ہے، لیکن نہ تو نبی ہے اور نہ ہی معصوم، اور پوری امت مسلمہ کی بیعت کا حکم دیتا ہے، اور پیغمبر کی برادری کے مذہبی اور دنیاوی معاملات کو کنٹرول کرتا ہے، جس کا مؤثر مطلب یہ ہے کہ وہ مذہب کی حفاظت کرتا ہے، سرحدوں کا دفاع کرتا ہے، امن و امان کو برقرار رکھتا ہے، اور (دوبارہ) وسائل کی تقسیم کرتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں، ایک خلیفہ کی تعریف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام پیروکاروں کے رہنما کے طور پر کی جاتی ہے نہ کہ بنیادی طور پر کسی علاقے، ایک ملک، کسی فرقے، یا مسلمانوں کے منتخب کردہ گروہ کے حکمران کے طور پر- حالانکہ وہ لامحالہ اس پر حکومت کرتا ہے اور اس کا دفاع کرتا ہے۔ مسلمانوں کا علاقہ۔56

 

خلافت بادشاہی نہیں ہے

ابتدائی زمانے سے، مسلمانوں نے ایک صحیح اسلامی حکومت کے درمیان فرق کیا تھا، جسے وہ خلافت کہتے تھے، اور عام طور پر سیاسی اختیار، جسے وہ ملک کہتے تھے۔ واضح رہے کہ لفظ ملک عربی زبان میں دوہرے مفہوم کا حامل ہے: یہ کسی بھی قسم کی سیاسی اتھارٹی کی طرف اشارہ کر سکتا ہے، جس کی ایک خاص نوع اسلامی خلافت ہو گی۔ یہ طنزیہ طور پر اس دقیانوسی بادشاہت کی بھی نشاندہی کر سکتا ہے جس کی خصوصیت صوابدیدی طاقت سے ہوتی ہے جس میں حکمران اپنی رعایا اور دولت کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، ابتدائی مسلمانوں نے اپنے حکمران کے لیے ملک (بادشاہ) کی اصطلاح استعمال کرنے سے گریز کیا کیونکہ وہ اس اصطلاح سے ظاہر ہونے والی عدم مساوات کو حقیر سمجھتے تھے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ یمن کے ایک حکیم نے ان سے کہا:

“اے عربو جب تک تم اپنے سردار کے مرنے پر مشورہ کرو گے تو اچھا ہو گا، کیونکہ جب تلوار چلتی ہے تو وہ بادشاہ بن جاتے ہیں، ان کا غضب بادشاہوں کے غضب کی طرح ہوتا ہے اور ان کی خوشنودی بادشاہوں کی خوشی ہوتی ہے۔ ”58

یہ تفریق قرون وسطی کے پورے دور میں جاری رہی۔ ایک مالکی عالم المقری التلماسانی نے اس وقت کھل کر جواب دیا جب کچھ صوفی حضرات (فقاراء) نے ان سے مسلمانوں کی ان کے بادشاہوں (ملکوں) کے حوالے سے بدقسمتی کے بارے میں پوچھا، جو اکثر انصاف اور تقویٰ کے بغیر کام کرتے ہیں۔ اس نے جواب دیا،

’’ایسا اس لیے ہے کہ بادشاہی (ملک) ہمارے قانون (شر) میں نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہم سے پہلے والوں کی شریعت میں ہے جیسا کہ خدا نے بنی اسرائیل پر اپنے احسانات کا ذکر کیا ہے۔ . . . اس نے ہمارے لیے خلافت کے سوا کسی چیز کو جائز نہیں بنایا۔

المقری اس کے بعد دونوں کے درمیان فرق کو بنیادی طور پر اس بات سے متعلق ہے کہ آیا کوئی شخص اختیار کو ذاتی سمجھتا ہے اور اسے خاندانی طور پر اپنے بیٹوں کو منتقل کرتا ہے۔ پھر جو چیز خلافت کو بادشاہت سے مختلف بناتی ہے، وہ یہ ہے کہ سابق میں امت کے مفادات سامنے اور مرکز ہوتے ہیں اور اختیار کو امانت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

ابن تیمیہ اس سے بھی زیادہ واضح ہیں۔ ذمہ داری بادشاہی سے پوری نہیں ہوتی، خواہ تمام مسلمانوں پر ایک عادل بادشاہ ہو، بلکہ ذمہ داری یہ ہے کہ ایک خلیفہ، ایک جوابدہ حکمران مقرر کیا جائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابتدائی خلفاء کے نقش قدم پر ایک امانت کے طور پر اقتدار سنبھالے۔ , من مانی کے بجائے.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بادشاہی (ملک) حلال ہے اور خلافتِ نبوی کو ترجیح دی گئی ہے یا ناجائز ہے اور صرف علم کی عدم موجودگی یا خلافت قائم کرنے کی طاقت کے بغیر جائز ہو سکتی ہے۔

ہمارے خیال میں بادشاہی بنیادی طور پر ناجائز ہے اور فرض خلافت نبوی کا قیام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میرے عمل اور میرے بعد خلفائے راشدین کی پیروی کرو۔ اس پر قائم رہو اور اسے مضبوطی سے پکڑو۔ (بلا جواز) بدعات سے باز رہو اور یاد رکھو کہ ہر (ایسی) بدعت ایک نقص ہے۔ یہ ہمیں لازمی طور پر خلافت (پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی کرنے کی تلقین کرتا ہے، ہمیں اس کی پابندی کرنے کا حکم دیتا ہے، اور اس سے انحراف سے خبردار کرتا ہے۔ یہ اس کی طرف سے حکم ہے اور خلافت کے قیام کو یقینی طور پر فرض قرار دیتا ہے … ایک بار پھر یہ حقیقت کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت نبوی کی پیروی کرنے والی بادشاہت کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بادشاہی میں ایسی چیز کی کمی ہے جو دین میں لازمی ہے… جو بادشاہت کو جائز قرار دیتے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے معاویہ تک دلیل دیتے ہیں کہ “اگر تم بادشاہت حاصل کرو تو نیک اور مہربان ہو” 60 لیکن اس میں کوئی (مضبوط) دلیل نہیں ہے … خلافت کا قیام فرض ہے اور استثنیٰ۔ اس سے صرف ضرورت کی بنا پر اجازت دی جاسکتی ہے۔”

 

نقصان

خلافت کی مذہبی ضرورت بیسویں صدی تک بلا شبہ رہی، جب خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے کے دلائل ترک قوم پرستوں نے پیش کیے اور سیکولرائزیشن اور یورپینائزیشن کی ایک صدی سے کم از کم اشرافیہ کے لیے قابل قبول بنایا۔ اس منتقلی کا ایک عبرتناک لمحہ 1924 میں ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی (TGNA) میں ایک عثمانی ماڈرنسٹ اسکالر، سید بے کی سات گھنٹے طویل تقریر تھی، جس میں اس نے اسلامی بنیادوں پر، المناک طور پر، ترکی جمہوریہ کا مقدمہ پیش کیا۔ .62 مندرجہ ذیل دہائیوں میں کمال پسندوں کی جارحانہ سیکولرائزیشن مہم اور سماجی زندگی کی پرتشدد ڈی اسلامائزیشن یقیناً سید بے کے منصوبے کا حصہ نہیں تھی، لیکن وہ پہلے اور نہ ہی آخری عالم نہیں تھے جنہیں ایک دانشورانہ کرائے کے طور پر استعمال کیا گیا اور پھر اسے مسترد کر دیا گیا۔ ایک مضبوط آدمی اتاترک نے آگے کیا کیا، یہ کہنا کافی ہے، ہٹلر اور مسولینی نے متاثر کیا۔63

خلافت کے خاتمے اور سیاسی سیکولرازم کے دفاع کا سب سے زیادہ اثر انگیز نظریاتی دفاع خلافت کے خاتمے کے بعد سامنے آیا جب ازہر کے تربیت یافتہ مصری عالم علی عبدالرازق (1888-1966) نے اپنی کتاب لکھی۔ اسلام واصول الحکم (اسلام اور اصول کی بنیادیں، 1925)۔ انہوں نے استدلال کیا کہ اسلام ایک نجی مذہب ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے جانشینوں (یعنی خلفائے راشدین) کے تمام سیاسی اقدامات حادثاتی اور تصوراتی طور پر بطور مذہب اسلام سے الگ تھے۔ عبدالرازق نے آکسفورڈ میں دو سال گزارے تھے جب WWI کی وجہ سے ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا تھا، اور ان کے خاندان نے لبرل آئین ساز پارٹی (حزب الاحرار الدستوریین، جو وافد سے الگ ہو گئی تھی، میں بانی کردار ادا کیا تھا۔ سیکولر قوم پرست مخالف استعماری جماعت؛ حزب الاحرار کا اس سے بھی زیادہ سیکولر ایجنڈا تھا کیونکہ اس نے مغربی ممالک کی تقلید کی وکالت کی۔ علی عبدالرازق خود ایک سیاست دان تھے اور پارٹی کے ٹکٹ پر 1923-24 کے پارلیمانی انتخابات میں ایک نشست کے لیے ناکامی سے حصہ لیا تھا۔64 مختصراً، انہوں نے ایک واضح ایجنڈے کے ساتھ ایک سیاست دان کے طور پر لکھا، نہ کہ محض ایک عالم۔ ، اگرچہ نسل نے اس کے کام کو صوفیانہ گہرائی کے ساتھ ایک بہادر بدعت کے طور پر غلط سمجھا ہے۔ اس کی کتاب پیغمبر کے مشن اور ان کے بعد آنے والے خلفاء دونوں کے زبردستی، تاریخی مطالعہ اور جدیدیت کی اتنی ہی کم فہمی کو دھوکہ دیتی ہے۔ ازہری اسٹیبلشمنٹ نے اس کتاب کی مذمت کی اور اس کے مصنف کو باضابطہ طور پر ہٹا دیا، اور مسلم دنیا کے سرکردہ علماء نے متعدد مفصل تردیدیں لکھیں۔ یہ سوال خلافت کے دفاع کے لیے پیش کیا گیا ہے، جو دنیا بھر کے سرکردہ اسلامی حکام کے نئے اجماع کی جدید ترین مثال ہے۔ تاہم، دلیل کی طاقت اکثر اس کی نظریاتی سنجیدگی میں نہیں بلکہ اس کی بروقتی میں ہوتی ہے۔ عرب قوم پرست اور سیکولر اپنے ایجنڈے کو بڑھانے کے لیے اس سے بہتر راستہ نہیں مانگ سکتے تھے۔

 

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست قائم کی؟

علی عبدالرازق کا مقدمہ اس دلیل پر مبنی تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا پیغام سیاسی نہیں بلکہ مذہبی اور روحانی تھا۔ اس نے ثبوت کے طور پر یہ دعویٰ پیش کیا کہ قرآن اور سنت نے کبھی خلافت کا حکم نہیں دیا۔ اسے شاید معلوم ہوگا کہ قرآن میں کسی چیز کا ذکر یا نام نہ ہونا بمیشہ اس کے غیر واجب ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ قرآن روزانہ کی نمازوں کی تعداد نہیں بتاتا، نہ ہی اس شہر کے جغرافیائی نقاط کی وضاحت کرتا ہے جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی، اور نہ ہی جس میں وہ مدفون ہیں، وغیرہ اور ان چیزوں کا علم صرف صحابہ کرام اور ان کے بعد والی نسلوں کے ذریعے علم کی ترسیل سے ہوتا ہے۔ علماء نے عام طور پر یہ استدلال کیا ہے کہ قرآن اہل ایمان (قرآن میں انہیں اہل ایمان یا امت کہا گیا ہے) کے لیے بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی حکمران کے تحت متحد ہو نے کی ذمہ داری لگاتا ہے اور اس سلسلے میں متعدد آئینی، سیاسی اور قانونی احکام وضع کرتا ہے جن کا نفاذ صرف ایک خودمختار اسلامی نظام میں ممکن ہے۔ اس سلسلے میں ۴:۵۹ (“اطاعت کرو… جو تم میں سے حاکم ہیں”) جیسے بلاواسطہ احکامات کے علاوہ لاتعداد بالواسطہ احکامات اور حوالوں سے بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر:

۱۔ ایک الگ کمیونٹی ہونا لازمی ہے جس کے ممبران کو باہر کے لوگوں کے ساتھ سمجھوتوں کی بنیاد پر اتحاد کرنے سے منع کیا گیا تھا۔

۲۔ جنگ، امن، اور سیاسی معاہدوں کو ایک خودمختار برادری کے طور اسطروار کرنے کا حکم؛

۳۔ خدا کے سوا کسی اور قانون کی اطاعت نہ کرنا، اس لیے کمیونٹی کی قانونی خودمختاری کا تحفظ کرنا؛

۴۔ اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں میں قانون کی حکمرانی، بشمول تعزیرات، ازدواجی اور سماجی زندگی، تجارتی اور مالیاتی ضوابط وغیرہ؛ اور آخر میں،

۵۔ ایک الگ “خارجہ پالیسی” جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام میں داخل ہونے کے بعد غداری اور سرکشی کرنے والے طلحہ، مسیلمہ اور دیگر قبائل کے خلاف تعزیری مہمات کے ساتھ ساتھ پڑوسی بادشاہوں اور شہنشاہوں کو خط بھیجے (جس میں ان کے جانشینوں پر ان کی پیروی کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی تھی) اور اپنی وفات سے پہلے رومی سرحد پر ایک تعزیری مہم تیار کرنے کا حکم دیا اور دیگر ایسے اقدامات کیے۔

ان تمام عوامل کا یقینی تقاضا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکارتشدد کے ذرائع پر اجارہ داری نہیں بلکہ دسترس حاص کریں اور ایک خودمختار سیاسی برادری قائم کریں۔ مذکورہ بالا تاریخی طور پر غیر متنازعہ حقائق ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشینوں نے محض ان کے احکام کی تعمیل کی اور ان کی پالیسیوں کو جاری رکھا۔ تاریخی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو صحابہ کرام اور پھر بنی امیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی اور عسکری سرگرمیوں کو جاری نہ رکھا ہوتا تو اسلام آج تاریخ میں بھولی بسری قبائلی روایات سے کچھ زیادہ نہ ہوتا۔

جانشینی کے سوال پر سنت نسبتا بہت زیادہ واضح ہے۔ متعدد احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والوں کی اطاعت کا حکم دیتی ہیں جیسا کہ اوپر ابن تیمیہ کے اقتباس میں ذکر ہوا ہے۔ درحقیقت، ایسا لگتا ہے کہ علی عبد الرازق اس بات سے بے خبر تھے کہ سرکردہ علماء ان خدشات کو پہلے ہی رفع کر چکے تھے جوانکو بھی لاحق تھے۔ الجوینی، جو اشعری ہونے کے ناطے احد احادیث کو یقینی طور پر تسلیم نہیں کرتے تھے اور حتمی علم کو صرف متواتر احادیث تک محدود رکھتے تھے نے بھی نہایت صراحت کے ساتھ اپنا مذکورہ بالا کام اس لیے لکھا تھا تاکہ خلافت کی ضرورت کے لیے ایک ناقابل تردید ثبوت پیش کیا جا سکے۔ اس کے برعکس، ابن تیمیہ، جنہوں نے متواتر سے کم درجے کی احادیث کو بھِی قبول کیا ہے اور مذہبی ذمہ داریوں کا تعین کرنے میں بھی استدلال کی افادیت پر زور دیا ہے، نے بھی مزکورہ بالا ذمہ داری کو ثابت کرنے کیلئے کئی صحیح احادیث کا حوالہ دیا ہے اور اسی ضمن میں اجماع اور عقلی دلائل بھی پیش کیے ہیں۔

تاہم عبدالرازق کی اہم غلطی تصوراتی تھی: ایسا لگتا ہے کہ اس نے یورپ میں اپنے قیام کے دوران جدید مذہب بمقابلہ سیاست کی تفریق کو اپنا لیا تھا اور وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ جن حکمرانوں نے مذہب کو اپنے زوال کو سہارا دینے کے لیے استعمال کیا ان کے مطلق العنان رجحانات سے پریشان ہو کر یہ تفریق خارجی طور پر قائم کے گئی تھی اوراسے  اسلامی الہیات اور تاریخ پر چسپاں کر دیا گیا تھا۔ مغربی سیکولرازم میں تعلیم حاصل نہ کرنے والے کسی بھی شخص کے نزدیک قرآن اور سنت کے بعض احکام کو ‘مذہبی’ اور دوسروں کو ‘سیکولر’ قرار دینے کی من مانی  انتہائِ غیر منصفانہ حرکت ہو گی۔

عبد الرازق کے حملے کو جس چیز نے طاقت بخشی وہ یہ تھی کہ وہ ان معاملات کے داؤ پیچ جانتا تھا: اس نے نہ صرف مذکورہ بالا ماخذ شریعت کتابوں کے ثبوتوں کی اور اس معاملے میں مستند آراء کو نظرانداز کیا بلکہ ابوبکر اور باقی صحابہ پر فتنہ ارتداد کے خلاف جنگین کرنے پر تنقید کی کیونکہ یہی جنگیں مدینہ کی سیاسی ریاست کو مستحکم کرنے کا پہلا قدم ثابت ہوئیں۔ عبد الرازق کے مطابق، وہ اصحاب طوعاً و کَرہ اچھے مسلمان قبائل کےخلاف صرف اس بنیاد پر ایک جنگ کا حصہ بن گئے تھے کیونکہ ان قبائل نے مدینہ کی حکومت کی سیاسی بالادستی کے خلاف مزاحمت کی تھی۔ عبد الرازق یقینا جان بوجھ کر نہ صرف اصحاب کے اجماع کو ترک کرنے پر آمادہ تھا بلکہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین صحابہ یعنی ان لوگوں کی دیانت پر انگلی اٹھا رہا تھا جن کی دیانت کی ضمانت خود قرآن دیتا ہے بلکہ انہی کا اجماع خود قرآن کے تحفظ کا ضامن ہے۔ یہ دونوں چیزیں مل کر اسلام کی بنیاد بناتی ہیں۔

 

خلافت کی آرزو

خلافت کے زوال اور خاتمے کےسیاسی، جذباتی اور ثقافتی اثرات مسلمانوں میں خلافت کے تسلسل اور اس کے ذریعے مسلم اتحاد کی خواہش کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اسلامی علوم کی اسکالر مونا حسن نے اسی حقیقت کو پہلے ۶۵۶/۱۲۵۸ یں منگولوں کے بغداد پر قبضے اور پھر قریبا ۷ صدیوں بعد ۱۹۲۴ کے تجربے کے تناظر میں بیان کیا ہے۔

متعدد اسلامی علماء، کارکنوں اور بین الاقوامی تحریکوں نے پچھلی صدی کے دوران مسلمانوں کے اتحاد کے خیال کو زندہ رکھا۔ اگرچہ اس طرح کے زیادہ تر گروہ  اور تحریکیں خلافت کی از سر نو تشکیل کو اپنی احیائی اور اصلاحی سرگرمیوں کا ایک ضمنی نتیجہ سمجھتی ہیں مگر ایسی چند تحریکوں نے اسے اپنا بنیادی مقصد بنا یا ہے۔ فلسطین-اردن کی حزب التحریر اور جنوبی ایشیا کی تنظیم تنظیم اسلامی (اسلامی تنظیم)،جو دونوں اب بین الاقوامی جماعتیں ہیں، انکے اور انکی طرح کی دوسروی جماعتیں جو خلافت کے احیا کے مقصد پر قائم ہیں کے نزدیک خلافت نہ صرف اصلاح شدہ مسلم معاشروں اور ریاستوں کے درمیان تعاون کا ثمر ہے بلکہ جدوجہد کا سیاسی خاتمہ اور ایک مطلوبہ حالت کے حصول اور مسلمانوں کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات سے بچنے کا ذریعہ بھی ہے۔ بیسویں صدی کے دوران، مسلم ریاستوں کے بعض پر عظم سیاسی رہنماؤں نے بین الاقوامی سطح پر روابط اور ادارے بنانے کے لیے کام کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پان اسلامی [pan-Islamic] تعاون کی طرف قدم بڑھایا جا سکے۔ دوسری جنگ عظیم سے متصل ترقی پسند پالیسیوں کے دور میں ایسی کوئی سنجیدا کوشش سامنے نہ آنے کی وجہ قومی ریاست اور اس سے مسلک سیاست تھی۔ آج ایسی امنگیں ایک بار پھر سامنے آئی ہیں۔غیر ریاستی عناصر، جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، اس خیال کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان میں سب سے اہم اخوان المسلمون (عربی بولنے والے ممالک میں) اور جماعت اسلامی (جنوبی ایشیا میں) جیسی سماجی و مذہبی اصلاحی تنظیمیں ہیں جنہوں نے خلافت کی بحالی کو مستقبل بعید کا مقصد تو سمجھا ہے لیکن اسے کبھی اپنی ترجیح نہیں بنایا۔ . فلسطین پر اسرائیلی قبضے اور اس طرح کے دوسرے بحرانوں میں پان اسلامزم کا تصور زور پکڑ لیتا ہے۔ شماریات کے دور (۱۹۴۰ سے ۸۰ کی دہائیاں) میں، ان تحریکوں نے مختلف ملکوں میں اقتدار کے حصول کے کیلئے عوام کو بڑے پیمانے ہر متحرک کرنے کا رستہ اپنایا۔ اکثر جگہ تو یہ ناکام رہے، اور ایران اور سوڈان جیسے جن ممالک میں وہ کامیاب ہوئے بھی وہاں انہوں نے محسوس کیا کہ قومی ریاست کے ماڈل کی اندرونی ساخت اور سیکولربنیاد ان کی اپنی نظریاتی خواہشات سے کہیں زیادہ مضبوط تھی جسکا نتیجہ اکثر جبر، بدعنوانی اور خود غرض علاقائی اور جغرافیائی سیاسی خدشات کی صورت میں نکلتا تھا۔ ریاستی حیثیت نے مسلم دنیا میں کبھی سنجیدگی سے جڑ نہیں پکڑی، اور جہاں سماجی طور پر اسلام پسندی تیزی سے مقبول ہوتی گئی، اس نے کبھی اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ خلافت کا نظریہ ایک حتمی مقصد کے طور پر پس پشت رہا جسے جمہوریت اور ترقی کے حصول کے بعد آخری قدم کے طور پر حاصل ہونا تھا۔

 

موجودہ ناکام ریاستیں

(۱۹۱۶-۱۹۱۸) کی عرب بغاوت  نے عرب مشرق وسطی میں ناجائز سیاسی قبضوں اور عدم استحکام کی ایک ایسی صدی کا آغاز کیا جو خدا جانے ابھی کتنی طوعل ہے۔ آج یہ خطہ تیزی سے انتشار کا شکار ہے۔ ایک ہم عصر  خلافت عثمانیہ کے زوال کو معاصر مشرق وسطیٰ کی بدحالی سے جوڑتے ہوئے لکھتا ہے،

“میرے خیال میں ہر کوئی اس خطے کے امکانات کے بارے میں مایوسی کا شکار ہوناے میں حق بجانب ہے۔ ان مسائل میں سے کسی کا بھی قلیل مدتی حل موجود نہیں ہے۔”

اسی طرح، اپنی کتاب [A Peace to End All Peace ۱۹۸۹] میں، مؤرخ ڈیوڈ فرامکن خطہ کی یورپی تقسیم کی عکاسی کرتے ہوئے لکھتا ہے:

“۱۹۲۲ کے تصفیے کے یا ان بنیادی مفروضوں کے لیے، جن پر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی، مقامی مخالفت جاری رکھنا، خطے کی سیاست کی خصوصیت کی وضاحت کرتا ہے: کہ مشرق وسطیٰ میں قانونی حیثیت کا کوئی احساس، کھیل کے قواعد پر کوئی اتفاق اور اس خطے میں کوئی مشرتکہ عقیدہ نہیں ہے، کہ جن بھی حدود میں ہوں، وہ ادارے جو خود کو ملک کہتے ہیں یا وہ لوگ جو حکمران ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس طرح کی پہچان کے حقدار ہیں۔ اس لحاظ سے، عثمانی سلاطین کے جانشین ابھی تک مستقل طور پر مقرر نہیں ہوئے ہیں۔”

آج، مسلم قومی ریاستوں کا مستقبل پچھلی پوری صدی کے مقابلے میں کم یقینی ہے۔ کم از کم ایک وجہ – اور، ایک عالم کے الفاظ میں، قومی ریاست کے ناممکن ہونے کی وجہ نظریاتی ہے، یعنی اسلام۔ یعنی ان معاشروں میں اسلام کی گہری جڑوں کو دیکھتے ہوئے، سیکولر بینایے کے ذریعے قانونی جواز پیدا کرنے کی متبادل کوششیں، خواہ قوم پرست ہوں، علاقائی ہوں، بائیں بازو کی بین الاقوامیت پرست ہوں یا دیگر، ناکام ہو گئی ہیں۔ جیسا کہ عرب اسکالر نازیہ ایوبی نے اپنی تحقیق Overstating the Arab State – 1996]] میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیسویں صدی کے بعد کی نوآبادیاتی عرب ریاستیں مضبوط نہیں بلکہ سخت ہیں- یعنی وہ کمزور اور ناجائز ہیں نتیجتا وحشیانہ ہیں۔ کیونکہ وہ عوام الناس سے وفاداری کا مطالبہ نہیں کرتے (بلکہ صرف اشرافیہ سے جو ان سے فائدہ اٹھاتی ہے)، اسلیئے وہ صرف وحشیانہ طاقت کے ذریعے کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کیلئے اور اپنے اقتدار کو جواز فراہم کرنے کیلئے وہ اکثر بیرونی عوامل جیسے علاقائی خطرات اور عداوتوں (مثلاً اسرائیل، صیہونی، صلیبی، شیعہ، سنی، وغیرہ) اور مذہبی اور نسلی تقسیم جیسے استحصالوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اشرافیہ کے سیکولر پروگراموں کی ناکامی کا خاص طور پر ناصر کی قیادت میں عرب قوم پرستی کی ناکامی اور ۱۹۶۷ میں اسرائیل کے ہاتھوں عرب فوجوں کی ذلت کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام کا بلاواسطہ استحصال کرنے کی امید قائم کر لی۔ لیکن اس ضمن میں نتائج کئی وجوہات کی بناء پر غیر متاثر کن رہے ہیں۔

اولا، اگرچہ حکمران کچھ علماء اور مذہبی اداروں کو کنٹرول کر سکتے تھے، لیکن سنی اسلام کبھی بھی مذہبی درجہ بندی کا قائل نہیں رہا ہے۔ اسی لیے ایسی کوششیں ہمیشہ متبادل مذہبی اتھارٹی کو جنم دیتی ہیں یا مضبوط کرتی ہیں۔ ایک مثال مصری ریاست کی قدیم جامعہ الازہر کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہے۔ اسلام چونکہ ایک مضبوط صحیفہ پرقائم مذہب ہے، اسلیے اسلام میں خواندگی کا پھیلاؤ مومنین تک اس کے آمریت مخالف [مذہبی اتحارٹی مخالف نہ بھی ہو تو] پیغام کی ترویج میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ اسلام کی وہی روح جس نے بنو امیہ کے مطلق العنان عزائم (بغاوتوں کی صورت میں) اور پھر عباسی خلفاء (امام احمد بن حنبل کی بہادرانہ مزاحمت کی صورت میں) کو ناکام بنا دیا تھا، اسے فوجی آمروں اور بادشاہوں کے ہاتھوں استعمال ہونے سے محفوظ بناتی ہے۔ ایک اور، اور شاید سب سے اہم، نظریاتی عنصر جو کہ قوم سازی کے منصوبے میں اسلام کو داخل کرنے میں رکاوٹ ہے وہ جدید ریاست کی بنیادی طور پر علاقائی نوعیت کے مقابلے میں اسلامی برادری کی عالمی نوعیت ہے۔

مسلم اکثریتی علاقوں میں ریاست کی اس غیر قانونی حیثیت کے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ دہشت گردی اس کا براہ راست اور ناگزیر نتیجہ رہی ہے۔ یہ غیر محفوظ، کمزور اور ظالم ریاستیں جبر کے ذریعے حکومت کرتی ہیں اور مذہبی اور ثقافتی حلقوں کو اپنے ہی معاشروں کے خلاف کرائے کے فوجیوں میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ اپنے مقصد کے لیے عالمگیریت کو ہتھیار بناتے ہوئے، مطلق العنان حکمران معاشرے سے جڑے اہل علم کے مقابلے میں زر خرید “‘علماء’ کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ مظلوم لامحالہ بین الاقوامی برادری کی طرف دیکھتے ہیں، جو شاذ و نادر ہی مدد کرتی ہے سوائے اس کے کہ جب مدد کرنے میں اس کا اپنا فائدہ بھی ہو۔ یہ ایک طرف ریاست کی غیر قانونی حیثیت کو مزید واضح کرتا ہے اور دوسری طرف اصلاح پسندوں (جن پر اب مطلق العنان غیر ملکی ایجنٹوں کا لیبل لگ جاتا ہے) کے بارے میں شک و شبہات پیدا کرتا ہے۔

 

جدید ریاست کی سیکولر تھیالوجی

یہ مسائل حادثاتی نہیں ہیں بلکہ کسی بھی ریاست کو ضرور پیش آیں گے جس کا مقابلہ ایک مقبول مذہب سے ہو جسے وہ اپنے مقاصد کے لیے تبدیل نہ کر سکتی ہو۔ اس کے علاوہ، اسلام جدیدیت کو نہ صرف مذہبی بلکہ سیاسی طور پر بھی اپنے تعلق، یکجہتی، قانون کی حکمرانی، اور تکثیریت کے لیے رواداری کے اپنے زبردست تصورات کے ذریعے چیلنج کرنے کی صلاحیت کے لحاظ سے منفرد ہے۔ اسلامی استثنیٰ کے ان پہلوؤں کو دونوں طرح کے اسکالرز؛ روایت کا مطالعی کرنے والے اور زندہ تجربات پر تحقیق کرنے والے، نے تسلیم کیا ہے۔

کوئی بھی قومی ریاست اس کے ساتھ مکمل وفاداری اور بیرونی مفادات اور اثر و رسوخ  سے مکمل آزادی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ یہ قوانین بناتی ہے اور ان پر عمل درآمد کرواتی ہے، زندگی اور موت کے فیصلے کرتی ہے، اور اپنے مفادات کے لیے شہریوں کو مارنے اور مرنے کے بیانیے پر تیار کرتی ہے۔ گو کہ غیر جانبدار عدلیہ کی موجودگی میں لبرل جمہوریت میں یہ اختیارات غالباً صوابدیدی نہیں ہیں اور ریاست کے اختیارات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے، لیکن حقیقت میں ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ لبرل جمہوریتوں نے اپنے آپ کو سرمایہ داری کے سامنے بے بس پایا ہے جبکہ وہ اپنی آپ کو مذہبی وابستگی، معاشرتی اخلاقیات، اور اب ماحولیات سے موافق ثابت کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ کسی بھی اجتماعی اور ماورائی اخلاقی نظریات کی کمی کے باوجود، جدید ریاست میں شہریوں کو یا تو بڑی، کثیر القومی کارپوریشنز یا نسلی قوم پرست ڈیماگوگس، یا دونوں کے ذریعےاستعمال کیا جاتا ہے۔ جدید ریاوت لبرل جمہوریت ہو یا نہ ہو، وہ مؤثر طریقے سے قانون، اخلاقیات اور اپنے شہریوں کی زندگیوں کے مطلق ثالث کے طور پر کام کرتی ہے۔

جس ریاست کی قطعی تعریف جدید قومی ریاست کے طور پر کی جاتی ہے وہ اس اداراتی ساخت کا اسلام سے کوئِ تعلق نہیں۔ اسلامی روایت اور تاریخ کے طالبعلموں میں معروف وائل حلق کی اہم کتاب “The Impossible State” نے اس عدم مطابقت کو بہت مدلل طریقے سے بیان کیا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ جدید قومی ریاست اگر خیر اخلاقی نہیں تو کم از کم اخلاقیات سے ماورا ادارہ ہے اسی لیے اسلام کے لیے غیر موزوں ماڈل ہے۔ تاہم، اس کا مقدمہ ‘ریاست’ کے ایک خاص تصور پر مبنی ہے، اور اس نے عامیین کے درمیان کافی الجھن پیدا کر دی ہے۔ اس دعوے کو واضح کرنے کے لیے ایک اختلاف کی تفصِل بیان کر دی گئی ہے۔

حکومت کی ابتدائی اسلامی شکلوں کو بیان کرنے کے لیے ہم ‘ریاست’ کی اصطلاح استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم ریاست کی تعریف کے اہم سوال کو کیسے حل کرتے ہیں۔ جدید ریاست عصری دنیا اور تخیل پر اس قدر قابض ہو گئِ ہے کہ ریاست کی تمام تاریخی تفہیم اور اس کے ساتھ تاریخی طور پر وسیع اور مستند متبادل تعریفیں غیر معروف یا ناپہید ہیں۔ یورپی دانشور اور مورخین عام طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ ریاست کا تصور یورپ میں ۱۳۰۰ اور ۱۶۰۰ کے درمیان کے مخصوص حالات کی وجہ سے ابھرا۔ جو چیز اسے حکمرانی کی کسی بھی سابقہ شکل سے الگ کرتی ہے وہ اسکی چند فکری بنیادیں ہیںجنہوں نے ریاست کو “ایک قادر مطلق لیکن غیر شخصی طاقت” کے طور پر متعارف کرایا: (ا) ریاست بادشاہوں ہا عہدہ داروں سے الگ ایک علیحدہ قانونی اور آئینی اتھارٹی کے طور پر حکمرانی کرتی ہے، (ب)  خدا، کلیسیا، یا مقدس رومی سلطنت سے ماورا، اس کے اپنے علاقے میں قانون کی واحد ماخذ ہے، اور(ج) ریاست اپنے شہریوں کی وفاداری کا واحد ضروری مقصد ہے۔ سیکولریت، علاقائیت، تجرید (یعنی شخصیت پرستی)، اور خودمختاری کو اس طرح جدید ریاست کے ضروری اجزاء میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاریخ دانوں کی استعمال کی گئی ریاست کی اس مقبول تعریف کو کا موازنہ نسبتا غیر مقبول تعریفوں سے کیا جانا چاہیئے مثلا چارلس ٹِلی کی پیش کردہ تعریف جو ریاستوں کو “زبردستی چلائی جانے والی تنظیموں کے طور پر دیکھتا ہے جو گھرانوں اور رشتہ داروں کے گروہوں سے الگ ہیں اور واضح طور متعین علاقے میں دیگر تمام تنظیموں سے کچھ معاملات میں برتر ہوتی ہیں”۔ مدینہ یقینی طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے وقت تک ایسی ‘ریاست’ کی نمائندگی کرتا تھا، جو حضرت ابوبکر کے دور حکومت کے اختتام تک مزید مستحکم ہو گئی تھی۔ اصطلاح کا یہ مؤخر الذکر استعمال، تاہم، معنی خیز نہیں ہے، اسی لیے ہم ًحلاق کی طرح، سیاسی اختیار کی جدید اسلامی شکلوں کی وضاحت کے لیے ‘ریاست’ کے بجائے ‘حکومت’ یا بہتر طور پر ‘گورننس’ کی اصطلاح استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

واضح الفاظ میں، جدید ریاست اسکا انتظام چلانے والے مخصوص افراد یا خاندانوں کے سے الگ ایک تجریدی، غیر شخصی ادارہ ہے ۔ سترہویں صدی کی یورپی ترقی کے نتیجے میں وقوع پزیر ہونے کی وجہ سے اس قسم کا اسلامی الہیات یا فقہ کے سے کوئی تعلق نہیں۔ سیاسی فلسفیوں اور مورخین نے کا طویل عرصے سے یہ خیال ہے کہ ایک ادارے کے طور پر، یہ روایتی عیسائیت میں خدا کے اختیارات جیسے اختیارات رکھتا ہے۔۔ سایسی نظریے کے لٹریچر میں شاید سب سے زیادہ نقل کیے گئے کارل شمٹ کے اپنے “سیاسی تھیولوجی” کے الفاظ کچھ یوں ہیں:

“جدید نظریہ ریاست کے تمام اہم تصورات نہ صرف اپنے تاریخی ارتقا کی وجہ سے سیکولرائزڈ تھیولوجیکل تصورات ہیں — جس میں وہ [عیسائی] الہیات سے ریاست کے نظریہ میں منتقل ہوئے، جس کے تحت، مثال کے طور پر،قادر مطلق خدا قادر مطلق قانون دینے والا بن گیا — لیکن ان کے منظم ڈھانچے کی وجہ سے بھی، جس کی پہچان ان تصورات پر سماجی غور و فکر کے لیے ضروری ہے۔”

اس مشاہدے میں قابل غور بات یہ ہے کہ سیاسی تصورات کی الہیاتی ابتداء اور پیش گوئیاں جدید ریاست کی تعریف کرتی ہیں: خودمختاری (قوانین بنانے اور ان سے مستثنیات کا فیصلہ کرنے کا ایک خدا جیسا، بلا شبہ اختیار)، علاقہ (ایک پابند علاقہ جہاں ریاست کی خودمختاری سب سے زیادہ ہے)، قومی برادری (قوم کی عظمت اور اس کے افسانوی ماضی میں یقین رکھنے والے)، اور شہریت (ریاست سے تعلق کی بنیاد پر افراد کو دیے گئے حقوق، غیر شہریوں کو عدم فراہمی)، وغیرہ۔ لیکن میرے خیال میں اس کی بڑی بصیرت، میرے خیال میں، ریاست کے نظریاتی طور پر سیکولر ڈھانچے کی نشاندہی کرنا ہےجو کوئی خالی جگہ نہیں ہے جو کسی بھی نظریے سے پُر ہو جائے، بلکہ اس کا اپنا ایک نظریہ ہے۔ وائل حلاق نے مندرجہ ذیل عبارت میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے:

“جدید اسلامی تصور جدید ریاست کو حکمرانی کا ایک غیر جانبدار آلہ تصور کرتا ہے، جسے اس کے رہنماؤں کے انتخاب اور حکم کے مطابق کچھ افعال انجام دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے قرآن میں درج اقدار اور نظریات کو نافذ کرکے  ایک اسلامی ریاست بنایا جا سکتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار مدینہ کی اپنی “منی اسٹیٹ” میں قائم کی تھی … [ایسا نہیں ہے۔] یہ کچھ مخصوص سیاسی، سماجی، معاشی، ثقافتی، علمی، اور، نفسیاتی اثرات پیدا کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست مخصوص علمی نظام وضع کرتی ہے جو بدلے میں انفرادی اور اجتماعی سبجیکٹیوٹی کے منظر نامے کا تعین اور اسے طرح اس کے باسیوں کے زندگی کے معاملات کا تعین اور تشکیل کرتی ہے”۔

ریاست کی اس نظریاتی طاقت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ریاست اپنے لیے خود منصف ہے خود قانون وضع کرتی ہے اور خود اس پر عمل کرواتی ہے۔  یہ حیرت انگیز اور مکمل طاقت بظاہر غیر مادی، تجریدی ہیت پر منتج ہوتی ہے لیکن حقیقت میں، ہمیشہ انسانوں کے کسی نہ کسی گروہ کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ مزید برآں، جدید ریاست کے ان حکام کو عالمی طاقتوں کے ذریعے قومی ریاست نامی بین الاقوامی معاہدے کے نام پر (یقیناً ہمیشہ من پسند طریقے سے) نافذ کیا جاتا ہے۔ جب اس لیویتھن کے اختیارات بہت زیادہ مطلق پائے گئے تو ادارہ جاتی چیک اینڈ بیلنس اور آئین اور جمہوری عمل میں لکھے گئے اختیارات کی علیحدگی کے نظریات نے جنم لیا۔ پھر بھی، یہ تمام چیک اینڈ بیلنس ریاست کے اندر ہی رہتے ہیں۔ ناقص جمہوریتوں میں (کیا کوئی کامل جمہوریتیں ہیں؟)، ایک طرف طاقت کا ارتکاز واضح ہاتا ہو تو دوسری طرف اختیارات کی علیحدگی کا فسانہ غیر موثر ہو جاتا ہے۔ لیکن، جیسا کہ متعدد قانونی مورخین نے استدلال کیا ہے، اختیارات کی علیحدگی کا مفروضہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ جیسی سب سے زیادہ ادارہ جاتی طور پر ترقی یافتہ قومی ریاستوں میں بھی حقیقت میں نہیں ہے۔ جب ریاست ایک متحد اداکار کے طور پر کام کرتی ہے، جیسا کہ حقیقی یا خودساختہ بحرانوں، جنگوں، اور فتوحات کے وقت میں – جو ممکنہ طور پر مسلسل یا حتیٰ کہ مستقل بھی ہیں – اس وقت انگریز فلسفی تھامس ہوبز کے الفاظ میں یہ ایک مطلق طاقت،ایک لیوتھن کی طرح، ایک “فانی دیوتا” کے طور پر کام کررہی ہوتی ہے۔

اسلامی الہیات کے لیے بڑا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حکمران بحیثیت فرد بدمعاش بن جائینگے یا جنگ میں مشغول ہوں گے، امتیازی پالیسیاں بنائیں گے، اور من مانی سزائیں دیں گے جو کہ سیاسی زندگی میں تمام قابل فہم برائیاں اور ناگزیر حقائق ہیں۔ مذہبی حکام نے ہمیشہ اسلامی اصولوں کے تحت حکمرانوں پر تنقید اور انکی مذمت کرنے میں اپنے آپ کو آزاد محسوس کیا ہے حتے کے بعض اوقات تو اسے انکے خلاف مسلح بغاوت کا جواز بھی بنایا ہے۔ اسلامی فریم ورک کے اندر جدید ریاست کا “ناممکن” ہونا، جیسا کہ حلق اور دیگر نے استدلال کیا ہے، اس وجہ سے ہے کہ ریاست تعریف کے ساتھ ساتھ ساختی طور پر بھی سپریم ہوتی ہے۔ مذہبی آراء اور ادارے ریاست کی طرف سے مجاز ہوتے ہیں۔ علماء یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر ریاستی اشرافیہ “مسلم” یا “اسلامی” بھی ہوں تو ساختی طور پر جدید ریاست اسلامی نہیں، صرف سیکولر ہی ہو سکتی ہے۔ اور پھر سیکولر ریاست بھی ریاستی اشرافیہ کو یورپ اور امریکہ سمیت کہیں بھی اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے مذہب کا استحصال کرنے سے نہیں روکتی۔ اس لیے ایک اسلامی ریاست کا نظریہ ایک آکسیمورون ہے، اور گزشتہ کئی دہائیوں میں اسلامی ہونے کا دعویٰ کرنے والی حقیقی ریاستوں کے تجربات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

ایک اور، اور اس سے بھی زیادہ ٹھوس، جدید ریاست کی علاقائی خودمختاری کے تقاضوں کے ساتھ عدم مطابقت یہ ہے کہ اسلام علاقائے یا علاقائی وابستگی کی بنیاد پر مسلمانوں کے حقوق اور فرائض میں کوئی تفریق نہیں کرتا۔ یکجہتی اور باہمی تعاون کے متعدد صحیفائی احکام ایک خطے کے مسلمانوں کو عارضی اور عملی بنیادوں کے علاوہ دوسرے مسلمانوں کی ضروریات، حقوق، دولت اور مصائب سے منقطع کرنا ناممکن بنا دیتے ہیں۔ روہنگیا، اویغوروں، فلسطینیوں اور کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کے جواب میں حرکت میں آنا، اس لیے تمام مسلمانوں کے لیے ایک براہ راست قرآنی حکم ہے، ایک ایسا حکم جس کا نفاذ صرف  قابل دسترس دوری اور ممکن ہونے سے مشروط ہے۔ اسلیے ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ جو افراد کی وفاداریوں کو ریاست کی علاقائی حدود سے محصور کرتا ہے اسلام سے لازمی متصادم ہے۔ ایک علاقائی ریاست کے لیے اس سے بھی زیادہ مسئلہ اس کے شہریوں کا اپنی سرحدوں کے باہر کی مذہبی اتھارٹی سے وفاداری کا ہے۔ وسیع پیمانے پر علمی، فکری اور صوفی نیٹ ورک جنہوں نے ماضی میں اسلام کی سرزمین کی تعریف کی ہے وہ قومی ریاست کے تقاضوں کے لیے ایک چیلنج بن گئے ہیں۔ بلاشبہ، علاقائی یا علاقائی حکومتوں کی محدود میونسپل یا انتظامی آزادی یقیناً ممکن ہے (اور مطلوبہ)، لیکن قومی ریاست کی طرف سے دعوی کردہ خودمختاری اس سے کہیں آگے ہے۔ لہٰذا، ریاست کوبطور خودمختار ادارہ، حکومت یعنی خطے میں انتظامی اور قانونی انتظام سے الگ کرنا بہت ضروری ہے۔ اس کے مطابق، مستقبل کی خلافت کو تصور کرتے وقت اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ ایک علاقائی سپر اسٹیٹ بنانے کے لیے مقامی حکومتوں، اداروں، برادریوں اور تاریخوں کو تباہ کرنا ضروری ہے۔

قومی ریاست کے بارے میں اور بھی بہت سی تنقیدیں کی جا سکتی ہیں اور بے شک کی جا چکی ہیں لیکن یہاں ہمارا مقصد جامع تنقید پیش کرنا نہیں ہے بلکہ یہ دکھانا ہے کہ اسلام کی سرزمین پر قومی ریاست اتنے گہرے مسائل سے دوچار کیوں ہوئیں اور قومی ریاست کا خاتمہ مسلمانوں کے لیے ایک زیادہ اسلامی اور انسانی شکل کے سیاسی وجود کی تشکیل نو کا تاریخی موقع کیوں پیش کر سکتا ہے۔

 

مستقبل کا تعین

“معاشی ماہرین اور سیاسی فلسفیوں کے نظریات، جب وہ صحیح ہوتے ہیں اور جب وہ غلط ہوتے ہیں، اس سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں جتنے وہ عام طور پر تصور کیے جاتے ہیں: درحقیقت، دنیا کسی اور طرح ہی چلتی ہے۔”

جدید ریاست پر جو تنقید میں نے اوپر پیش کی ہے اس کا تقاضا ہے کہ مستقبل کی خلافت کا تصور ایک سپر نیشن اسٹیٹ یا محض موجودہ ریاستوں کے انضمام کے طور پر نہ کیا جائے بلکہ ایک مختلف طرز کی طرز حکمرانی کے طور پر پیش کیا جائے جو اپنی قانونی حیثیت ویسٹ فیلیا، قوم پرستی اور سیکولرازم سے مختلف سیاسی فلسفے سے حاصل کرے۔ اس کے لیے جدید تجربے سے ہٹ کر پہلے سے تیار کردہ جدید ماڈل کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے، سوچ کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے، اور عصری تجربے کو تسلط پسند زمروں سے بالاتر کرتے ہوئے ماضی سے حکمت اور رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک بار جب ہم اپنے آپ کو اس تصور سے محروم کر دیتے ہیں کہ قومی ریاست ایک لازمی چیز ہے (جب تک کہ غیر ملکی آقا اور نصابی کتب ہمیں مختلف سوچنے کی اجازت نہ دیں)، ماضی اور حال سے بہت سے سبق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

خلافت کی بحالی کوئی ناقابل تصور بات نہیں اور اسی آئینے سے بہت سے آزاد مسلم مفکرین نے مستقبل کا تصور کیا ہے۔ جید مصری فقیہ عبد الرزاق السنوری [۱۸۹۵-۱۹۷۱]، جو مصری، عراقی اور دیگر عرب شہری قوانین کے واحد سب سے اہم مصنف بھی ہیں، نے خلافت کے احیاء کے لیے ایک منظم اور غیر واضح عزم کا اظہار ترقی پسند انداز میں یوں کیا:

“اس بات کے پیش نظر کہ صحیح ہدایت یا مکمل خلافت کا قیام موجودہ حالات میں ناممکن ہے، عالم اسلام پر مسلط حالات کے تناظر میں نامکمل یا ناقص اسلامی حکومت (حکمہ) کے قیام کا کے علاوہ کوئی چارہ موجود نہیں ہے لیکن اس طرح کے نظام کو ناقص اور عارضی تصور کیا جانا چاہیے … مستقبل کا مثالی نظامِ خلافت لچکدار ہونا چاہیے، کیونکہ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، شریعت حکومت کے لیے کوئی مخصوص [انتظامی] ساخت نافذ نہیں کرتی۔”

وہ ایک قابل عمل اور موثر خلافت کے لیے یہ وسیع تقاضے پیش کرتا ہے:

۱۔ عالم اسلام کا اتحاد؛

۲۔ اسلامی قانون کا اطلاق، اور

۳۔ کچھ مذہبی اور سیاسی خصوصیات ان کی مزید وضاحت وہ اس طرح کرتے ہیں:

۱۔ اختیارات کی علیحدگی: جیسا کہ تاریخ اور تجربہ بتاتا ہے کہ کسی ایک شخص یا ادارے کے ہاتھ میں طاقت کا ارتکاز مذہبی اور اخلاقی پہلووں پر سیاسی پہلو کے غلبہ کا باعث بنتا ہے۔

۲۔ قانونی اصلاحات: روایتی اسلامی قانونی نظام (رسموں اور مذہبی پہلوؤں سے ہٹ کر) جمود کا باعث بنا تھا، جس کی وجہ سے اسے عملی طور پر لاگو کرنے سے پہلے سنجیدگی سے تحقیق میں مشغول ہونا اور ایک طرح کی فکری نشاۃ ثانیہ ضروری ہے۔

۳۔ غیر مرکزیت اور مقامیت: تاریخ اور تجربہ بتاتا ہے کہ اسلامی دنیا کا اتحاد ایک انتہائی مرکزی ریاست میں مستحکم طور پر برقرار نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اسلامی فقہ کے نقطہ نظر سے یہ مطلوب ہے۔ ایسی کسی بھی کوشش کو ہر علاقے کو خود پر حکومت کرنے کے لیے دی گئی آزادی کے ساتھ منسلک کرنا ہو گا۔

سنہوری خواب نہیں دیکھ رہا تھا۔ اس کے بعد کے مطالعے نے تفصیل سے بتایا کہ اس طرح کی کثیر الجہتی حکومت میں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مختلف مذہبی اور دیگر امور کے لیے کمیٹیوں کی قسم اور غیر مسلموں کے ساتھ ساتھ پڑوسی غیر مسلموں، “مشرق کی اقوام”، کے حقوق کے لیے حساسیت تک جس کی ضرورت ہوگی۔

اس سلسلے میں، ریاست ہائے متحدہ کا آئینی ڈھانچہ جدید دنیا کے سیاسی تصور کے بہترین معاملات میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے، اور سیاسی سوچ کی کوئی بھی عصری کوشش اسے نظر انداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ دائیں بازو کے پنڈت جارج ول نے حال ہی میں اپنی کتاب “The Conservative Sensibility” سے متعلق ایک انٹرویو میں تبصرہ کیا کہ عراق میں جمہوریت لانے کی بش انتظامیہ کی کوشش ناکام ہو گئی کیونکہ عراق میں فلسفی جان لاک، جارج واشنگٹن، سٹیٹسمین، الیگزینڈر ہیملٹن جیسے لوگ اور اٹھارہویں صدی کا امریکہ معاشرہ نہیں تھا۔ اس کا بڑا استدلال یہ ہے کہ بعض سیاسی ذہانتوں نے امریکی سیاسی نظام کو تخلیق کیا، جس کے نتیجے میں ایک ثقافت اور موضوعیت پیدا ہوئی، جو کامیاب جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ایک کامیاب سیاسی وژن کے لیے ان تینوں عناصر میں سے ہر ایک کی ضرورت ہوتی ہے: مشترکہ نظریات کا مجموعہ، بصیرت افروز مفکرین، اور ایک ایسا معاشرہ جو ان کے وژن کے تحت چلنے لیے تیار ہو۔ جارج ول عراق کے بارے میںکوئی ماہر نہیں، اور امریکہ کے بارے میں اس کا نظریہ اس کی تاریخ سے تمام خون  سے صرف نظر کرتا ہے، لیکن اس کے کچھ تجزیے درست ہیں:  اہل بصیرت کی ضرورت اور معاشرے سے استفادہ اور خاص طور پر، درآمد شدہ حل کی ناکامی۔ اس سے بھی زیادہ قابل ذکر امریکن ڈیکلریشن آف انڈیپنڈنس کے بارے میں ول کا مشاہدہ ہے: وہ اسکا مقصد اوپر سے نیچے حقوق کا نفاز نہیں سمجھتا بلکہ اسکا مقصد پہلے سے موجود حقوق کی ضمانت کو قرار دیتا ہے جن حقوق کع عمومی طور پر خدا کی طرف سے دیے گئے حقوق تصور کیاجاتا ہے۔

ہم خلافت کو مقامی حکومتوں کے ایک فیڈریشن کے طور پر تصور کرتے ہیں جو جمہوری طریقے سے یا شوری کے کسی بھی روایتی یا ابھی تک دریافت شدہ ادارہ سازی کے ذریعے چلائی جا سکتی ہے — جس سے میرا مطلب نمائندگی، مشاورت اور احتساب ہے۔ اسلامی قانون فطری طور پر قانونی طور پر تکثیری رہا ہے اور اپنے فرقہ وارانہ اصولوں کو غیر مسلموں پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ معاشرتی زندگی اور حکمرانی کا اسلامی تصور بنیادی طور پر  اپنی ساخت میں نیچے سے اوپر کا ہے: لوگوں پر صرف ان قوانین کے ذریعے حکومت کی جا سکتی ہے جن پر وہ یقین رکھتے ہیں۔ اسلامی حکومت کی ایک اور ذمہ داری خاندان اور برادری کی سالمیت ہے۔ اسلامی روایت کی ایک تیسری متعلقہ ذمہ داری جو بتدریج تاریخی طور پر رائج ہوئی ہے وہ چھوٹی حکومت اور مقامی رسم و رواج کا احترام ہے۔ جب جدید ریاستوں نے ان معیارات کو ترک کر دیا اور اسلامی قانون کو ریاستی قانون بنانے کی کوشش کی تو مایوس کن نتیجہ ظاہر ہوا۔

یہ تمام وعدے آئینی ڈیزائن کے لیے تعمیراتی بلاکس فراہم کرتے ہیں جس کے لیے اس چیز کی ضرورت ہوگی کہ حکومت کے اختیارات کی جانچ میں توازن قائم کیا جائے۔ مسلم حکومتوں کے مستقبل کے کسی بھی کنفیڈریشن کے ادارہ جاتی ڈیزائن کے لیے مختصراً یہ کہ اسلامی روایت کے قدیم وسائل کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ عصری اداروں کو بھی اپنانا ہوگا۔

یہ دعوت کسی پرتشدد انقلاب کی  طرف دعوت نہیں ہے کیونکہ ناگزیر طور پر یہ دہشت کے دور سے منسلک ہے۔ یہ خلافت کے وسیع اور مشترکہ فریم ورک میں نئے مکالموں اور طرز عمل کی دعوت ہے جو عالمی امت مسلمہ کے اجتماعی مستقبل کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

ہماری دعوت مسلمانوں کو ہے کہ وہ بڑا سوچیں لیکن چحوٹ اور فوری ذمہ داریوں کو بھی نظرانداز نہ کریں، اگر فی الوقت صرف مقامی طور پر ہی عمل کر سکیں تو اسکے ساتھ عالمی افق پر بھی سوچیں۔ یہ بات چیت، نیٹ ورکنگ، دوبارہ سوچنے، اور مسلمانوں کے طور پر سیاسی طور پر زندگی گزارنے کے امکانات کا از سر نو تصور کرنے کی طرف ایک دعوت ہے۔ یہ ہر جگہ کے نوجوان مسلمانوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ مصنوعی سرحدوں کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے سے جڑ جائیں اور خود سے عملی اور اخلاقی سوالات پوچھیں: ہم خدا پر ایمان اور عقیدت  میں کمی پر کیا کر سکتے ہیں، اشرافیہ کی بے حسی اور کرپشن، بے گھر پناہ گزینوں کی مدد، اور ستائے ہوئے اہل ایمان بھائیوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں، اور اقتصادی تعاون کو آسان، سیاسی اداروں میں تبدیلی، مذہبی گفتگو کو بہتر کیسے بنا سکتے ہیں اور فرقہ وارانہ اور قومی حدود کے اندر اور اس کے پار مسلمانوں کے ساتھ مکالمے اور گفتگو کو تقویت بخشنے، اور زبان اور تعصب کی بہت سی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے تعلیم اور مواصلات کو بہتر بنانے میں کیا کر سکتے ہیں؟

  ان تمام سوالوں کا جواب اس انداز میں دیا جانا چاہیے جو بیک وقت آمروں اور دہشت گردوں کو نہ صرف ان کے اپنے نظریات میں بلکہ ان کی حکمت عملیوں اور عالمی نظریات میں بھی شکست دے سکے۔

جب داعش کی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں اور مغربی میڈیا کٹے ہوئے سروں اور قاتلانہ خودکشیوں کے بارے میں انتہائی سنسنی خیز کہانیاں شائع کرنے میں مقابلے کر رہا تھا، اس وقت اس مسئلے پر کام کرنے والے ایک محقق کی حیثیت سے، میں سرخیوں سے آگے بڑھ کر تحقیق کرنا چاہتا تھا داعش اصل میں کیا تھی. چونکہ میں اس گروپ کی مغربی میڈیا کیلئے تیار کی گئَ تشدد کی فحش نگاری کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار تھا، میں نے ان کی اشاعتوں (جیسے میگزین، دابق) میں وسیع پیمانے پر تشدد اور تکفیر فیصلوں سے بالاتر ثقافت کے سراغلگانے کی کوشش کی۔ اس کے ممبروں اور حامیوں کے طرز عمل کے بارے میں ان کے ایک دوسرے کے ساتھ کیسا سلوک کرنے کے بارے میں غیر واضح اور بڑی حد تک نظر انداز کی جانے والی رپورٹوں نے انہیں سمجھنے میں میری بہت مدد کی۔ ان متعدد اشاروں نے مل کر ایک تصویر تخلیق کی: مغربی، یورپی، سفید فام بھرتی کیے گئے لوگوں کو برتر سمجھا جاتا تھا، انہیں اہم عہدے دیے جاتے تھے جہاں سے وہ پیغام رسانی اور یہاں تک کہ فیصلوں کو بھی کنٹرول کرتے تھے، اور غریب ممالک سے بھرتی شدہ لوگوں سے تفریق برتی جاتی تھی اور انہیں ذلیل کیا جاتا تھا۔ بچوں کو علم، استدلال اور ہمدردی کی بجائے تشدد اور نفرت کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اسلام کے مستند ماخذوں سے قانونی اصولوں کو تاریخ، سیاق و سباق اور تنوع کو پس بشت ڈالتے ہوئے من مرضی سے اخز کیا جاتا یعنی ان کا apocalyptic پیغام ان خوبیوں کا مخالف تھا جو اسلامی روایت کے لیے ضروری ہیں۔ میں جانتا تھا کہ یہ خصوصیات سی آئی اے کے پروپیگنڈا کرنے والے نہیں بنا سکتے، اور انہوں نے مجھ پر ان کی بنیادیں منکشف کیں۔ پروپیگنڈے اور سازشی نظریات کے حامل اس دور میں، اس طرح کے حقائق اور اعداد و شمار نے مجھے  مریقہ اور خوارج جیسے ناراض ٹھگوں اور سائیکو پیتھس، کے اس گروپ کو سمجھنے میں مدد کی جن کی مذمت کرتے ہوئے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  کہ “ایسے اھمق نوجوان ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا”۔

ایک منصفانہ سیاسی نظم کا حصول عاجزانہ دعاؤں، والدین کی تعظیم، بہتر شادیوں، گہری دوستیوں، مضبوط مقامی کمیونٹیز، اور سب سے زیادہ پسماندہ اور کمزوروں کے لیے انصاف کی فکر کی جگہ نہیں لے سکتا۔

مسلم دنیا میں جمود کو برقرار رکھنا تو محض ایک خواب ہے لیکن اسے تبدیل کرنے کی آرزو اب محض خواب نہیں ہے. موجودہ نظام غیر اسلامی، غیر اخلاقی اور مسلمانوں اور بڑے پیمانے پر ہمارے انسانی بھائیوں کے اچھے مستقبل کے حق میں بہتر نہیں۔ جو لوگ اسے برقرار رکھنا چاہتے ہیں وہ ایک چھوٹی اور سکڑتی ہوئی اشرافیہ ہیں۔ ان غاصب ریاستوں کو برقرار رکھنے کے لیے یہ اشرافیہ نہ صرف اپنی اکثریت کو دبانے اور آزاد، اخلاقی سوچ کے ہر آخری امکان کو قتل یا خاموش کرنے کے لیے بلکہ اسلام کی توہین اور تحریف اور مسلم معاشروں کو بڑے پیمانے پر برین واش کرنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔ یہ انتہائی جابرانہ اور تقریباً ناکام ریاستیں صرف سطحی طریقوں سے داعش سے مختلف ہیں۔ وہ مسلمانوں میں یکجہتی کے احساس کو ختم کرنے اور اس کی جگہ لینے کے ساتھ ساتھ مذہبی، فقہی اور اخلاقی گفتگو کو محدود کرنے میں مصروف عمل ہیں تاکہ ان کے مفادات کو پورا کیا جا سکے۔

میرے خیال میں خلافت کو مسلمان خطوں میں حکومتوں کی ایک ایسی کنفیڈریشن سے تعبیر کرنا چاہیے جو سب کے لیے بہت سے انسانی حقوق کا تحفظ کرتی ہو، ان خطوں کو سیاسی اور اقتصادی استحکام فراہم کرتی ہو، اور ان خطوں کے وسیع تر مذہبی اور ثقافتی اتحاد کو اپناتے ہوئے انتظامی طور پر مسلمانوں کو مختلف قسم کے مقامی سیاسی ترقی کی اجازت دیتی ہو۔ ایسا حکم نہ صرف حکم الٰہی کے مطابق ہوگا بلکہ غاصبوں اور دہشت گردوں کی باہمی تقویت کا واحد طویل مدتی متبادل بھی ہو گا۔

Discover more

The Ummatics Institute Inaugural Conference

Ummatics Institute

Islamic Social Finance: Meaning & Means

Ummatics Colloquium

Waqf: Muslim Civil Society vs. the Nation-state

Ummatics Colloquium

Search

Search

Navigate

Ummatics Forums
Areas of Focus
Browse By Disciplines
About Ummatics
Search

Sign up to our Newsletter